انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 184 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 184

۱۸۴ سورة الانفال تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث راہوں کو اختیار کیا تھا اور اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ ان کی کمزوریاں دور کر دی جائیں گی اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تقویٰ کی راہوں کو اختیار کرنے کے دن سے اور وقت سے پہلے جو غفلتیں اور کوتاہیاں ان سے سرزد ہوئی ہوں گی اللہ تعالیٰ انہیں معاف کر دے گا۔وہ ان کے اوپر اپنی مغفرت کی چادر ڈال دے گا اور ایک معصوم کی سی زندگی انہیں عطا کرے گا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے ایسے بندے کو بڑے پیار سے فرمایا کہ یہیں پر بس نہیں بلکہ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا اندازہ لگانا بھی تمہارے لئے ممکن نہیں ہے اس لئے ہم ان فضلوں کو بیان نہیں کرتے۔لیکن اصولی طور پر تمہیں یہ بتا دیتے ہیں کہ اللہ بڑا ہی فضل والا ہے وہ تم پر اپنے اتنے فضل کرے گا کہ جب تم ان فضلوں کے وارث بنو گے۔صرف اس وقت تمہیں ان کی حقیقت محسوس ہو گی اور تب تمہیں ان کی لذت اور سرور ملے گا تب تمہیں معلوم ہوگا کہ خدا کس قدر فضل کرنے والا ہے۔پھر یہیں پر بس نہیں ہوگی بلکہ فضل کے بعد فضل تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا چلا جائے گا اس لئے کہ تم نے اس کی خاطر تقویٰ کی راہوں کو اختیار کیا اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مجھے بھی اور آپ کو بھی تقویٰ عطا کرے کہ اس کے فضل کے بغیر تقویٰ کا حصول بھی ممکن نہیں۔خطبات ناصر جلد اول صفحه ۵۲۰ تا ۵۲۲) إن تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَلُ لَكُمْ فُرْقَانَا ( الانفال :۳۰) اگر تم اپنی راہ نمائی کے لئے قرآن کریم کو چنو گے اور پسند کرو گے اور اختیار کرو گے تو تمہیں بھی ایک امتیازی مقام دیا جائے گا اور تمہیں اللہ تعالیٰ حق و باطل میں امتیاز کرنے کی توفیق دے گا اور قرآن کریم کی روحانی برکات کے طفیل تمہیں ایک نور عطا کیا جائے گا جو صحیح کو غلط سے اور ظلمت کو روشنی سے جدا کرتا چلا جائے گا اور تمہاری راہ کو سیدھا اور آسان کر دے گا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس روحانی تاثیر کے متعلق بہت کچھ لکھا اور فرمایا ہے لیکن میں نے اس موقعہ کے لئے ایک مختصر سا حوالہ لیا ہے۔آپ فرماتے ہیں۔پھر چوتھا معجزہ قرآن شریف کا اس کے روحانی تاثیرات ہیں جو ہمیشہ اس میں محفوظ چلے آتے ہیں یعنی یہ کہ اس کی پیروی کرنے والے قبولیت الہی کے مراتب کو پہنچتے ہیں اور مکالماتِ الہیہ سے مشریف کئے جاتے ہیں خدائے تعالیٰ ان کی دعاؤں کو سنتا اور انہیں محبت اور رحمت کی راہ سے جواب دیتا ہے اور بعض اسرار غیبیہ پر نبیوں کی طرح ان کو مطلع فرماتا ہے اور اپنی تائید و نصرت کے نشانوں سے دوسری مخلوقات سے انہیں ممتاز کرتا ہے ( یعنی ان کیلئے ایک فرقان بنا دیتا ہے ) یہ بھی ایسا نشان ہے جو