انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 7
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ط سورة المائدة آیت ۴ حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَمَا أهِلَّ لِغَيْرِ اللهِ بِهِ وَالْمُنْخَنِقَةُ وَالْمَوْقُوذَةُ وَالْمُتَرَدِّيَةُ وَالنَّطِيحَةُ وَمَا أكل السَّبْعُ إِلَّا مَا ذَكَيْتُمْ وَ مَا ذُبِحَ عَلَى النُّصْبِ وَ اَنْ تَسْتَقْسِمُوا بالأزلام ذَلِكُمْ فِسْقٌ اَلْيَوْمَ يَبِسَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوهُمْ وَاخْشَوْنِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا فَمَنِ اضْطَرَ فِي مَخْمَصَةٍ غَيْرَ مُتَجَانِفٍ لِاثْمٍ فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيم , لا قرآن کریم کے نزول کے بعد ، وحی قرآن کے نزول کے بعد اب کسی ہدایت کی ضرورت نہیں رہی نہ تھوڑی نہ بہت اور قرآن كريم الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَيْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي خدا تعالیٰ نے ایک کامل مکمل شریعت کو ہمارے ہاتھ میں دے کر اپنی نعمتوں کو انتہا تک پہنچادیا تو کوئی چیز قرآن سے باہر نہیں قرآن کی تفسیر ہے قرآن کی تفسیر خود قرآن کے مطابق زمانوں زمانوں میں بدلتی جائے گی بدلتی اس معنی میں نہیں کہ اختلاف ہوگا پہلی کے ساتھ بلکہ اس معنی میں کہ جو مسائل اس زمانہ کے ہوں گے اور پہلے زمانوں کے وہ مسائل نہ ہونے کی وجہ سے پہلے زمانوں کے خدارسیدہ بزرگ اولیاء کو وہ تفسیر نہیں سکھائی گئی ہوگی وہ خدا تعالیٰ اس زمانے میں ایسے مقربین پیدا کرے گا مطہرین جن کو وہ خود معلم بن کر قرآن کریم سکھائے گا اور دنیا کی ہدایت کے سامان پیدا کرے گا۔(خطابات ناصر جلد دوم صفحہ ۲۶۳) قرآن کریم ایک کامل کتاب ہے۔اس نے اپنے کمال کا خود اعلان کیا ہے چنانچہ ہمارے ربّ کریم نے فرمایا اليَومَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا علم دین کو مرتبہ کمال تک پہنچا دیا گیا اور اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی پر ہر قسم کی نعمتوں کے دروازے کھول دیئے ہیں لیکن ان نعمتوں سے حصہ پانے والے اُمت محمدیہ کے ایمان دار لوگ ہیں۔ہر انسان ان نعمتوں سے خدا تعالیٰ کے حکم کی اطاعت کرتے ہوئے اور قرآنی تعلیم پر عمل پیرا ہوکر ہی حصہ پاسکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے وہ (قرآن) الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ