انوار القراٰن (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 640

انوار القراٰن (جلد ۲) — Page 6

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث سورة المائدة بڑی عزت اور عظمت عطا کی تھی۔کون یہ خیال کر سکتا ہے کہ اس شخص کو خدا تعالیٰ کی نگاہ میں کوئی عزت اور عظمت نہیں جس کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۳۰۰ سال پہلے اپنا سلام بھجوایا تھا ۱۳۰۰ سال پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں ایک پیارا اپنے اس روحانی فرزند کے لئے جوش مار رہا تھا اور اس جوش کے نتیجہ میں آپ نے کہا کہ جب وہ آئے تو اپنی طرف سے تم نے اسے سلام پہنچانا ہی ہوگا۔میری طرف سے بھی اسے سلام پہنچا دینا۔(طبرانی الاوسط والصغير) تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں اپنی اولا د (روحانی) میں سے جو وجود اس قدر عزت اور احترام رکھتا ہے کہ آپ اسے سلام بھیجتے ہیں کیا اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ صاحب عزت و احترام نہیں وہ یقیناً صاحب عظمت واحترام ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ تعالیٰ نے جو مختلف نشان دیئے اور علامات دیں اور آپ نے جو پیشگوئیاں فرمائیں اور جو وقت کی ضرورت کے مطابق اسلام کے تقاضے آپ نے بتائے وہ سب شعائر اللہ میں شامل ہیں کیونکہ جیسا کہ میں نے بتایا ہے شعائر اللہ کے معنی ہیں وہ علامات جو یہ بتاتی ہیں کہ ان کی عزت کر کے اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہوتی ہے اور ان کی بے حرمتی کر کے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی مبشر اولاد کے متعلق بھی ایک فقرہ میں یہ بتایا ہے کہ یہ شعائر اللہ ہیں اور ان کی عزت کرنا ہر احمدی کے لئے ضروری ہے جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلام بھجوایا تھا اسی سے ملتا جلتا یہ فقرہ ہے آپ فرماتے ہیں کہ یہ لڑکے چونکہ اللہ تعالیٰ کا ایک نشان ہیں اس لئے میں اللہ تعالیٰ کے ان نشانوں کی قدر کرنی ضروری سمجھتا ہوں“۔(الحکم ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ء) اب جس بات کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرض سمجھتے ہیں آپ کے جو تبع ، پیرو اور آپ کی بیعت میں شامل ہیں وہ بات ان پر بھی فرض ہے جو اس سے انکار کرتا ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع سے انکار کر رہا ہے۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۰۱۵ تا ۱۰۲۵)