انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 63 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 63

۶۳ سورة الفاتحة تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ارادے اور میری کوشش کے شامل حال نہ ہو۔پس اس صورت میں اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے دعائیہ الفاظ انسانی تکبر اور غرور اور نخوت کے بھوت کی گردن پر ایک تیز چھری کا کام دیتے ہیں۔اس دعا کے ذریعہ انسانی تکبر اور غرور اور نخوت کے بھوت کا سر کچل دیا جاتا ہے اور انسان تکبر اور غرور، نخوت اور خود بینی کے زہر سے ہلاک ہونے سے بچ جاتا ہے کیونکہ انسان کے لئے اس دنیا میں اس زندگی میں ایک ہی موت ہے اور وہ اللہ تعالی کے لئے فنا ہو جانے کی موت ہے یہ موت بھی ہے اور ایک لِقا بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا اور اللہ تعالیٰ کے ذریعہ سے بقا اور زندگی کا حصول ہے۔پس اس وقت جو سب سے بڑی نعمت مجھے نظر آتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ بھی غور کریں تو اسی نتیجہ پر پہنچیں گے کہ سب سے بڑی نعمت جو اس وقت اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قرآن کریم کی تفسیر کے خزانے ہیں کہ جن سے ہم جتنا بھی فائدہ اُٹھا ئیں یہ خزانہ ختم ہونے والا نہیں ہے۔اس لئے اس خزانے کی قدر کرنا ضروری ہے اور اپنے چھوٹے بڑے ہر قسم کے مسائل کو اس کی روشنی میں سلجھانا ضروری ہے۔اگر ہم اپنی طرف سے اپنی زندگی کے مسائل کو سلجھانا شروع کریں گے تو نا کام ہوں گے۔قرآن کریم کی ہدایت ہی کے ذریعہ انفرادی اور اجتماعی مسائل کا صحیح حل تلاش کیا جا سکتا ہے اس کے بغیر ممکن نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ہمارے لئے ایک کامل ہدایت نامہ بنایا اور پھر قرآن کریم کی اس کامل ہدایت اور حسین تعلیم کو سمجھنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ ایک نہایت ہی اہم چیز یعنی آپ کی تفسیر ہمارے ہاتھ میں دے دی اگر اس کے بعد بھی ہم غافل ہو جائیں تو ہم سے بڑھ کر بدقسمت انسان کوئی نہیں ہوگا۔اس لئے میں بار بار جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ یہ ایک خزانہ ہے اس کے دروازے کھولو، کتابیں پڑھو اور اُن پر غور کرو۔۔۔۔۔۔میں قرآن کریم کی تفسیر کے سمجھنے کے سلسلہ میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک بڑی اعلیٰ درجہ کی قوت دی ہے اور یہ ہے فکر اور غور کرنے کی قوت اور یہ اس لئے دی ہے کہ ہم قرآن اور اس قرآن عظیم کی جو تفسیر میں پہلے بزرگوں نے کی ہیں اور اب اس زمانے میں جو بہترین تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کی ہے اور جس کا دائرہ قیامت تک وسیع ہے اور پھر جو تفسیر آپ کے خلفاء کی کتابوں میں پائی جاتی ہے اس کو ایک نعمت سمجھتے ہوئے اس کے سمجھنے سمجھانے کے لئے غور و فکر کریں اور ان حقائق سے پر کتابوں کو مہجور کر کے