انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 57 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 57

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۷ سورة الفاتحة جنتوں کے ہماری طرح وہ بھی وارث ہوں۔پرستش کا دعوی کرنا اور یہ کہنا کہ ہم عبادت کر رہے ہیں آسان ہے لیکن کرنا مشکل ہے کیونکہ عبادت صرف نمازیں پڑھنے کا نام نہیں قیام رکوع اور سجود کو ظاہری شکل میں بجالانے کا نام ہی عبادت نہیں ہے خالی زکوۃ دے دینا بھی عبادت نہیں محض روزے رکھنا بھی عبادت نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک روح ہے جس کی ضرورت ہے اگر ہماری نماز ، اگر ہمارے روزے، اگر ہماری زکوۃ اور اگر ہماری دوسری عبادات زندہ ہیں تو وہ قبول ہوں گی اگر مردہ ہیں تو جو مردوں سے سلوک کیا جاتا ہے وہی ان سے کیا جائے گا پرستش کرنے کے لئے جس چیز کی ضرورت ہے پس روح کی ضرورت ہے جس کے لئے ہم اپنے رب سے دعائیں مانگتے ہیں وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے ہم غیر اللہ کے وجود کو مٹائیں اور غیر اللہ میں پہلا وجود ہمارے اپنے نفس کا ہوتا ہے اگر ہم اپنے ہی ہاتھ سے اپنی نفسانی خواہشات کی گردن پر چھری پھیر کر انہیں اپنے رب کے قدموں میں نہ لا ڈالیں تو ہماری عبادت کیسے قبول ہوگی اللہ کہے گا کہ آدھے تم میری طرف جھکے اور آدھے تم اپنے نفسوں کی پرستش میں مصروف رہے اس قسم کی عبادتوں کو میں پسند نہیں کرتا حقیقی عبادت جیسا کہ خدا چاہتا ہے کہ ہم اس کی کریں اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ ارشاد ہے جو میں اس وقت پڑھ دیتا ہوں اور جس پر میں آج اپنے مختصر سے خطبہ کو ختم کروں گا۔آپ فرماتے ہیں۔۔انسان خدا کی پرستش کا دعوی کرتا ہے۔مگر کیا پرستش صرف بہت سے سجدوں اور رکوع اور قیام سے ہو سکتی ہے یا بہت مرتبہ تسبیح کے دانے پھیر نے والے پرستار الہی کہلا سکتے ہیں بلکہ پرستش اس سے ہو سکتی ہے جس کو خدا کی محبت اس درجہ پر اپنی طرف کھینچے کہ اس کا اپنا وجود درمیان سے اٹھ جائے اول خدا کی ہستی پر پورا یقین ہو۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۵۴) اس طرف ہمیں خاص توجہ دینی چاہئے نام تو ہم اللہ کا لیتے رہتے ہیں اس کے نشان بھی بڑی کثرت سے ہماری جماعت دیکھتی ہے مگر وہ یقین کامل جو اس کی کامل ہستی اور اس کی قدرت اور اس کی دوسری صفات حسنہ پر ہونا چاہئے بعض دفعہ بعض احمدیوں کے دل میں بھی ان کے متعلق کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اس متاع حسین اور بڑی قیمتی متاع کی حفاظت ہر وقت ہر احمدی کو کرتے