انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 56 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 56

تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالث سورة الفاتحة ہے۔( عظیم عربی لغت کے لحاظ سے اس عظمت کو کہتے ہیں جس سے بڑھ کر کوئی عظمت نہ ہو ) چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو اجر میں نے دینا ہے، اس سے بڑھ کر اجر تمہیں کہیں اور نہیں مل سکتا پس یہ عظیم اجر ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے اور یہ عظیم اجر ہے جسے ہم عملا اللہ تعالیٰ سے وصول کر رہے ہیں اور جس پر ہم خوش ہیں۔(خطبات ناصر جلد سوم صفحه ۴۵۴) اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر چونکہ حقیقی پرستش نہیں کی جاسکتی اس لئے عبادت کا حق ادا کرنے کے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم اس کے حضور عاجزانہ دعاؤں سے جھکیں کہ اپنی کوشش سے ہم اس حق کو ادا نہیں کر سکتے اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے سورہ فاتحہ میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ فرمایا اور ہمیں اس طرف متوجہ کیا کہ اگر تم صحیح طریق پر عبادت کرنا چاہتے ہو تو ايَّاكَ نَسْتَعِينُ یہ دعا کرتے رہا کرو کہ اے خدا ! عبادت کی خواہش تو ہم رکھتے ہیں لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اپنی قوت اور طاقت سے ہم اس فرض کو پورا نہیں کر سکیں گے جب تک تیری مدد ہمارے شامل حال نہ ہو اس لئے تو ہم پر رحم کر اور ہماری مد دکو آ اور ہمیں توفیق عطا کر کہ ہم تیری عبادت کو کما حقہ پورا کر سکیں۔اس سورۃ میں انعام کی طرف بھی اصولاً اور بڑے حسین پیرایہ میں متوجہ کیا ہے آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ اپنے اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچاننے کی وجہ سے ہمارے دل میں جو سب سے بڑی تڑپ پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ بنی نوع انسان اپنے رب کو پہچانیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسان کو مانتے ہوئے آپ پر درود بھیجنے لگیں اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے وارث ہوں اگر اور جب ہماری عبادت قبول ہو جائے اور خدا ہمیں کہے کہ میں جیسا کہ تیری خواہش تھی تمہاری مدد کو آیا اور میں نے تمہیں تو فیق عطا کی کہ تم صحیح معنی میں میرے عبادت گزار بندے بن جاؤ اب میں تمہیں انعام دینا چاہتا ہوں بتاؤ کیا لینا چاہتے ہو؟ تو ہم میں سے ہر احمدی کی یہ ندا ہو کہ اے میرے رب تو نے ہم پر بڑا احسان کیا کہ ہمیں عبادت کی توفیق عطا کی تو نے ہم بڑا احسان کیا کہ تو نے ہماری ان عبادتوں کو قبول کیا اور تو ہم پر بڑا احسان کر رہا ہے کہ ان عبادتوں کو قبول کرنے کے بعد ہمیں اپنے فضلوں اور انعاموں سے نوازنا چاہتا ہے۔ہماری سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس دنیا میں بسنے والے تمام ہمارے انسان بھائی تمہیں پہچاننے لگیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو تعلیم دنیا کی بہتری کے لئے لائے تھے وہ اپنی گردنیں اس تعلیم کے جوئے کے نیچے رکھ دیں اور ابدی