انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 531
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۳۱ سورة ال عمران لئے اپنے اموال اس کے سامنے پیش کرو مگر انہوں نے اس کی آواز نہ سنی اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک نہ کہا اور دنیا کے اموال کو اُخروی بھلائی پر ترجیح دی اور نتیجہ اس کا یہ ہے کہ آج یہ جہنم میں ہیں اور ذلت کا عذاب انہیں دیا جا رہا ہے جہنم کے عذاب میں تو سارے شریک ہیں لیکن یہ طوق بتا رہا ہوگا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے اموال کی تو حفاظت کیا کرتے تھے لیکن اپنی جانوں کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے اپنی ارواح کی حفاظت نہیں کیا کرتے تھے۔ایک نتیجہ اس بخل کا اس دنیا میں نکلے گا اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ آسمانوں اور زمین کی ہر شے اللہ کی میراث ہے اور میراث کے ایک معنی لغت نے یہ بھی کئے ہیں کہ ایسی چیز جو بغیر کسی تکلیف کے حاصل ہو جائے پس اللہ تعالیٰ جو خالق ہے ربّ ہے اور جس کی قدرت میں اور طاقت میں ہر چیز ہے جس کے کن کہنے سے ساری خلق معرض وجود میں آئی ہے کسی چیز کے پیدا کرنے یا اس کے حاصل کرنے میں اسے کوئی محنت نہیں کرنی پڑتی اور جب ہر چیز اللہ ہی کی میراث اور ملکیت ہے تو جو شخص بھی اللہ کو ناراض کرے گا وہ اس دنیا میں اموال کی برکت سے محروم ہو جائے گا یا کوئی اور دکھ اس کو پہنچایا جائے گا۔پھر اللہ تعالیٰ نے ایک مثال دی اور وہ یہود کی مثال ہے کہ جب مسلمانوں کو یہ کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کرو تو یہود میں سے بعض کہتے ہیں کہ اچھا اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ اللہ ہوا فقیر اور ہم ہوئے بڑے امیر ہمارے اموال کی خدا کو ضرورت پڑ گئی ہے اس لئے وہ ہم سے مانگ رہا ہے اسی پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا چونکہ بخل کے ساتھ ذات باری کا استہزا بھی شامل ہو گیا ہے اس لئے انہیں عذاب حریق یعنی ایک جلن والا عذاب دیا جائے گا اور ان لوگوں کو جنہوں نے اس قسم کے فقرے مسلمانوں کو ورغلانے اور بہکانے کے لئے کہے تھے اسی دنیا سے جلن کا عذاب شروع ہو گیا تھا۔اسلام ترقی کرتا چلا گیا اور وہ لوگ جو غریب تھے اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانیوں کو قبول کرتے ہوئے ساری دنیا کے اموال ان کے قدموں پر لا رکھے اور جو مخالف بھی خدا تعالیٰ کے ان فضلوں اور انعاموں کو دیکھتا تھا وہ اس بات کا مشاہدہ کرتا تھا کہ سچا ہے وہ جس نے کہا تھا کہ لِلَّهِ مِیرَاثُ السَّبُوتِ وَالْأَرْضِ اور جو شخص مخالفت کو چھوڑنے کے لئے بھی تیار نہیں تھا اس کے دل میں ایک جلن پیدا ہوتی تھی یہ دیکھ کر کہ یہ لوگ غریب تھے ہمارے محتاج تھے ہم ہی ان کی ضرورتیں پوری کرتے تھے اور ہمارے