انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 530
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۵۳۰ پر ظلم کر دور نہ ایجی ٹیشن ہوگی ، ورنہ اقتدار تمہارے ہاتھ سے جاتارہے گا۔سورة ال عمران خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۳۹۶، ۳۹۷) آیت ۱۸۱ ۱۸۲ وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا اللَّهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ b b هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيْطَوَقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ وَ لِلهِ مِيرَاتُ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَاللهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ لَقَدْ سَمِعَ اللهُ قَوْلَ الَّذِينَ قَالُوا إِنَّ اللَّهَ فَقِيرٌ وَ نَحْنُ أَغْنِيَاءُ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوا وَ قَتْلَهُمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقِّ وَ نَقُولُ ذُوقُوا عَذَابَ الْحَرِيقِ۔(DAY) اللہ تعالیٰ ان آیات میں فرماتا ہے کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں سب کچھ دیتا ہے لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی اس دین میں سے مالی قربانیاں پیش نہیں کرتے بلکہ بخل سے کام لیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا اپنے اموال کو خدا کی راہ میں خرچ نہ کرنا دنیوی فوائد پر منتج ہو گا اور اسی میں ان کی بھلائی ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ کریں گے تو انہیں نقصان ہو گا ان کا خدا کی راہ میں اموال خرچ کرنا ان کے لئے خیر کا موجب نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ خیال درست نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ (شَرٌّ لَّهُم ( ایسا کرنا ان کے لئے بہتر نہیں بلکہ ان کے لئے ہلاکت اور برائی کا باعث بنے گا اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو وہ مول لینے والے ہوں گے اس بخل کے دو قسم کے نتائج نکلیں گے ایک اس دنیا میں اور ایک اس دنیا میں جو شخص بخل سے کام لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس کی راہ میں اپنے اموال کو خرچ نہیں کرتا وہ اس دنیا میں جہنم میں پھینکا جائے گا اور وہاں اسے ایک نشان دیا جائے گا جس سے سارے جہنمی سمجھ لیں گے کہ وہ اس لئے اس جہنم میں آیا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے اموال خرچ نہیں کیا کرتا تھا سیطو قُون ان کے گلے میں ایک طوق ڈالا جائے گا اور وہ طوق تمثیلی زبان میں ان اموال کا ہوگا جو اس دنیا میں خدا کی راہ میں خرچ نہ کر کے وہ بچایا کرتے تھے اور اس طوق کی وجہ سے ہر وہ شخص جو جہنم میں پھینکا جائے گا جان لے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں کہا گیا تھا کہ اپنی عاقبت سنوارنے کے لئے اور خدا کو راضی کرنے کے