انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 467
تغییر حضرت خلیفة امسح الثالث ۴۶۷ سورة ال عمران گزار رہی ہے کہ نہیں۔جس کے نتیجہ میں اللہ تعالی محض اپنی نعمت کے طور پر اور اپنے فضل اور برکت کے نتیجہ میں ان کے درمیان مودت اور اُلفت پیدا کرتا اور انہیں بنیان مرصوص بنا دیتا ہے۔خطبات ناصر جلد اوّل صفحه ۴۹۸ تا ۵۰۵) اُمت محمدیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ تاکیدی حکم فرمایا کہ حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور پراگندہ مت ہو۔حبل اللہ کے ایک معنے تو ان چیزوں کے یا ہدایت کے ان اصول کے ہیں جن پر کار بند ہو کر انسان کو وصالِ الہی اور قرب الہی حاصل ہوتا ہے اس لئے حبل اللہ سے مراد مفسرین کے نزدیک قرآنِ عظیم بھی ہے اور اس سے عقل سلیم کے اصول جو دراصل فطرت صحیحہ انسانیہ کے اصول ہیں وہ بھی مراد لئے گئے ہیں۔اس معنے کے لحاظ سے یہ ارشاد ہے کہ قرآن کریم میں جو اصول ہدایت اور اصول شریعت بیان ہوئے ہیں۔( یعنی جو اصول راہ راست پر چلنے اور صراط مستقیم پر قائم رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ودیعت کئے ہیں ) وہ عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کے مطابق بھی ہیں۔اس لئے انسان کے لئے یہ ضروری ہے کہ اگر وہ اس مقصد کے حصول میں کامیاب ہونا چاہتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے تو وہ شریعت اسلامیہ جو فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ( الروم : ۳۱) کے مطابق ہے۔ان اصول شریعت یا اصول ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کے دن گزارے۔حبل اللہ کے دوسرے معنے اللہ کے عہد کے لئے، کئے گئے ہیں۔اس سے مراد یہ ہے کہ جو عہد اللہ تعالی سے باندھا ہے یا جو عبد اللہ تعالیٰ نے باندھا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑو۔اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے کون سے عہد باندھے ہیں یا اس کے لئے کون سے میثاق قرار دیئے ہیں؟ قرآن کریم میں اس کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔اس وقت میں صرف ایک بات لے کر اس پر کچھ روشنی ڈالوں گا۔وو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔" مَنْ صَلَّى صَلَو تَنَا وَاسْتَقْبَلَ قِبْلَتَنَا وَاكَلَ ذَبِيحَتَنَا فَذَلِكَ الْمُسْلِمُ الَّذِى لَهُ ذِمَّةُ اللهِ وَذِ مَّةٌ رَسُوْلِهِ فَلَا تُخْفِرُوا اللَّهَ فِي ذمته‘ ( بخاری کتاب الصلوۃ باب فَضْلِ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ ( میں یہ حدیث بیان ہوئی ہے۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جو شخص ہماری نماز جیسی نماز پڑھے یعنی جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں ویسے ہی وہ نماز پڑھ رہا ہو اور قبلہ رُخ ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کر رہا ہو اور ہمارے ذبیحہ کو کھا رہا