انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 463 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 463

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۶۳ سورة ال عمران حفاظت کرنا تمہارے لئے ضروری ہے۔پس وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا میں اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ بتایا کہ اگر تم اس مفہوم کے مطابق جو عربی کے لحاظ سے وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا کا ہے۔ہمارے حکم بجا لاؤ گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارے اندر کوئی ایسا تفرقہ پیدا نہیں ہوگا جو ملت کے شیرازہ کو بکھیر دے اور ترقی کی جو منازل اُمت مسلمہ طے کر رہی ہے اس میں تنزل کا کوئی رخنہ واقع ہو جائے۔پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاء فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِةِ اِخْوَانًا۔یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ اسلام لانے سے قبل یا اسلام سے باہر رہتے ہوئے جو لوگ زندگی کے دن گزار رہے ہیں وہ تفرقہ کا شکار ہیں مذہبی اور روحانی لحاظ سے۔اور ان میں سے کوئی جماعت یا فرقہ ایسا نہیں ہے کہ جو نیکی کے مقام پر کھڑا ہو یا نیکی کے مقام پر کھڑا رہ سکے۔کیونکہ یہاں نفی کا حکم دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے عربی کا جو لفظ استعمال فرمایا ہے اس کے مقابلہ میں الفت کا لفظ استعمال کیا ہے اور الفت کے معنی اکٹھے ہو جانے اور محض باہمی موڈت اور پیار کے نہیں بلکہ ایسے اجتماع اور ایسی محبت و پیار کے ہیں جو نیکیوں پر قائم ہو، جو بدیوں پر قائم ہو کر ایک جتھہ بنتا ہے۔اسے عربی زبان الفت کے لفظ سے یاد نہیں کرتی یہاں الفت کے مقابلہ میں نَفَرقُوا کا لفظ استعمال ہوا ہے۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کے اندر اس طرف بھی اشارہ ہے کہ وہ تمام فرقے جو اسلام سے باہر ہیں یا وہ جو حقیقی اسلام سے باہر ہو جاتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہے کہ جو نیکی اور تقویٰ اور طہارت پر قائم ہو۔بلکہ سارے کے سارے بلا استثنا ضلالت پر قائم ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا پر عمل کرو گے تو فرقہ فرقہ نہ بنو گے۔اور جب بھی تمہارے اندر فرقے نظر آنے لگیں تو سمجھ لینا کہ قوم نے اِعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا پر عمل نہیں کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کے نتیجہ میں ایک بڑا انعام جو تمہیں عطا کیا گیا ہے۔وہ باہمی مودت اور اخوت ہے دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ساری دنیا کی دولت بھی اگر خرچ کی جاتی تو اس قسم کی الفت جو نیکی پر قائم ہوتی ہے اور نیکی پر قائم رکھتی ہے اس جماعت میں پیدا نہ ہو سکتی۔یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے امت مسلمہ میں اس قسم کی محبت اور اخوت اور الفت کو پیدا کیا ہے اِعْتِصَامُ بِحَبْلِ اللہ کے نتیجہ میں۔