انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 459
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۵۹ سورة ال عمران پس ان آیات میں ایک چیز جو نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جب تم اپنے آپ کو یا کسی اور کو آگ کے کنارہ پر کھڑا دیکھو گے تو اس آگ سے بچاؤ کا ایک ہی طریقہ ہے جو تمہیں اپنی تاریخ میں بھی اور انسانی زندگی میں بھی نظر آئے گا اور وہ ہے اعتصام باللہ اور تقوی اللہ۔اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسان چمٹ جائے اور اس کی پناہ میں آجائے اور وہ ان کا ذمہ لے لے تو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کسی کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے؟ اگر انسان خدا کو اپنی ڈھال بنالے تو دشمن کے تیر اس تک کیسے پہنچ سکتے ہیں؟ کیا خدا تعالیٰ کی ڈھال کو چھیدنے والا کوئی تیر اس دنیا میں پایا جاتا ہے؟ نہیں، ہرگز نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ان آیات میں جو دوسری بات نمایاں طور پر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ جو شخص مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی کوشش کرتا ہے وہ اس کے پیدا کردہ بندوں سے ایسے اختلاف نہیں رکھتا جو ان کے لئے مضرت کا باعث اور قوم و ملک کے اتحاد یک جہتی کے لئے نقصان دہ اور انتشار کا موجب ہوں۔وہ ایسے اختلافات کو مٹا دیتا ہے کیونکہ اعتصام باللہ کے نتیجہ میں تفرقہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور یہ اعتصام کا لازمی نتیجہ ہے۔اب جو شخص اللہ تعالی کی پناہ میں آگیا اور اس نے اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال اور اس کی صفات حسنہ کی معرفت حاصل کر لی وہ اس کی مخلوق سے نفرت کے ساتھ کیسے پیش آسکتا ہے یا لوگوں کے لئے شفقت اور ایثار کے جذبات کیسے نہیں رکھ سکتا ؟ غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا مومنو! تمہارے اندر تفرقہ نہیں ہونا چاہیے تا ہم ایک تفرقہ تو وہ ہے جو فطرتی ہے وہ تو ہونا چاہیے۔اس قسم کے تفرقہ سے میری مراد فطرتی اختلاف کا پایا جانا ہے یہ اختلاف تو انفرادیت کو اجاگر کرنے والا ہے۔مثلاً ایک باپ کے بچے ایک قسم کی فطرت، ایک قسم کے اخلاق، ایک قسم کی ذہنیت اور ایک جیسا حافظہ لے کر پیدا نہیں ہوتے۔حتی کہ ان کی شکلوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے لیکن یہاں وہ اختلاف مراد ہے جو بنی نوع انسان کے لئے رحمت کا موجب تھا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میری امت کا اختلاف ان کے لئے رحمت کا موجب ہوگا۔مگر شیطان آتا ہے اور اس اختلاف کو اس کے لئے رحمت کی بجائے زحمت اور ہلاکت کا موجب بنانے کی کوشش کرتا ہے اس اختلاف سے جو انسان کے لئے رحمت کی بجائے ہلاکت اور تباہی کا باعث ہو، اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے کیونکہ اعتصام کے بعد یعنی جب کہ خدا کو پہچان لیا، اس کے