انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 451
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۴۵۱ وو سورة ال عمران اس طرح کہ مَنْ دَخَلَه جو مقامِ ابراہیم میں داخل ہو " كَانَ آمِنًا “ اللہ تعالیٰ کی امان میں اور امن۔میں آجاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ساتواں وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے یہ کہا گیا تھا کہ صرف تیری نسل پر ہی یہ حج فرض نہ رہے گا بلکہ ایک ایسا نبی یہاں مبعوث کیا جائے گا جس کی شریعت عالمگیر ہوگی اور اس شریعت کے نزول کے بعد اقوام عالم پر حج کو فرض کر دیا جائے گا اور اس طرح اس خانہ خدا کو مرجع خلائق اور مرجع عالم بنا دیا جائے گا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور قرآنی شریعت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تب اس شریعت کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان پر حج کو فرض کر دیا۔چنانچہ سورۃ بقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔الْحَجُ اَشْهُرٌ مَعْلُومَتُ ، فَمَنْ فَرَضَ فِيْهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَتَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَج وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ اللهُ (البقرة : ۱۹۸) کہ اے بنی نوع انسان ! تم یا درکھو کہ حج کے مہینے سب کے جانے پہچانے ہیں پس جو شخص حج کو اپنے پر فرض سمجھتے ہوئے حج کرنے کا پختہ ارادہ کرے وہ حج کے ایام میں (جیسا کہ دوسرے دنوں میں ) کوئی شہوت کی بات یا کوئی نافرمانی کی بات یا کسی قسم کے جھگڑے کی بات نہ کرے یہ اس کے لئے جائز نہ ہوگا اور پھر فرمایا کہ جو کام بھی تم کرو گے اللہ ضرور اس کی قدر کو پہچان لے گا۔وہ یہ نہیں دیکھے گا کہ تمہارا تعلق سفید نسل سے ہے یا تمہارا تعلق سیاہ نسل سے ہے۔بلکہ خواہ تم کسی بھی قوم کے فرد کیوں نہ ہو، کسی بھی خطہ زمین کے رہنے والے کیوں نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حج کو خدا کے کہنے کے مطابق اپنے لئے ضروری عبادت سمجھو گے اور جب وہ شرائط تمہارے حق میں پوری ہو جائیں گی جن کا تعلق حج کرنے کے ساتھ ہے اور اس فریضہ کو فریضہ جانتے ہوئے تم حج کرو گے اور حج کے دوران بھی ان تمام ہدایتوں کا پاس کرو گے جو ہدایتیں اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں تمہیں دی ہیں تو پھر اسے تمام بنی نوع انسان ! یہ سن لو کہ نیکی کا جو کام بھی تم کرو گے اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں تمہاری قدر قائم ہو جائے گی۔وہ تمہاری نیکی کو پہچانے گا۔کوئی چیز اس کی نظر سے غائب نہیں ہے اور اس قدر کے نتیجہ میں اس کی بے شمار نعمتوں کے تم وارث ہو گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حج بیت اللہ صرف ظاہری مناسک حج کا ہی نام نہیں بلکہ ہر عبادت اسلامی کے پیچھے اس کی ایک روح ہے ظاہری عبادت جسم کا