انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 448 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 448

۴۴۸ سورة ال عمران تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث۔۔۔۔۔میں بتا یہ رہا ہوں کہ فِیهِ این بینت کا جو وعدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کیا گیا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وعدے کو پورا کرنے والے ہیں اور تاریخ اس بات پر شاہد ہے پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دنیا نے اللہ تعالیٰ کے لاکھوں نشانات کا مشاہدہ کیا ہے اور آپ کے بعد آپ کے خلفاء کے ذریعہ سے بھی اور دوسرے جو بزرگ جماعت احمدیہ میں پائے جاتے ہیں ان کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نشان ظاہر کرتا رہتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت کے طفیل آپ کے ماننے والوں پر یہ حقیقت بھی وضاحت کے ساتھ ثابت ہو چکی ہے کہ اس قسم کی باتیں عام طور پر ظاہر نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ ان کے نتیجہ میں انانیت پیدا ہوتی ہے اور بعض دفعہ یہ خطرہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو انسان مول لینے والا نہ ہو جائے۔تو قرآن کریم سے نیز جو نمونہ اولیاء امت کا تاریخ میں محفوظ ہے اور جو سلوک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشاق اور اپنی رضا کی راہوں میں فدا ہونے والوں سے اللہ تعالیٰ کرتا رہا ہے۔اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے اور اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا کہ تمام اقوام میں اور ہر زمانہ میں آیات بینات موجود ہیں اور ان کا تعلق صرف مسلمانوں سے ہے۔دوسرے مذاہب نہ ایسا دعویٰ کر سکتے ہیں اور نہ اسے ثابت کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔پانچویں غرض تعمیر کعبہ سے یہ بتائی گئی تھی۔مَقَامُ ابرھیم اور یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اس ابراہیمی مقام کے ذریعہ سے عشاق الہی کی ایک ایسی جماعت پیدا کی جاتی رہے گی جو تمام دنیوی علائق سے منہ موڑ کر خدا کی رضا پر اپنی تمام خواہشات کو قربان کر کے مقام فنا کو حاصل کرنے والی ہوگی۔سوچا جائے تو ایت بینت کے نتیجہ میں ہی مقام ابراہیم کا حصول ممکن ہوتا ہے ورنہ نہیں۔یہ آیت بَيِّنت اور مقام ابراہیم کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے۔تو چونکہ اُمت محمدیہ میں ایت بینت کا ایک سمندر ہمیشہ موجزن رہتا ہے اس لئے اُمت محمدیہ میں ممکن ہو گیا ہزاروں لاکھوں ایسے بزرگوں کا پایا جانا کہ جو مقام ابراہیم کو حاصل کرنے والے ہوں دراصل مقام ابراہیم مقام محمدیت کا ظل ہے۔عین اس مقام تک پہنچ جانا جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے یہ تو ممکن نہیں لیکن اس کے بعد جو دوسرا مقام ہے وہ مقام ابراہیم ہے۔ایک ظل کی شکل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان ایت بيّنت سے حصہ لیا ہے۔قرآن کریم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ میرے ماننے والوں میں ایسے لوگ کثرت سے وو