انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 447
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۴۷ سورة ال عمران b صُدُورِ الَّذِينَ أوتُوا الْعِلْمَ وَمَا يَجْحَدُ بِأَيْتِنَا إِلَّا الظَّلِمُونَ (العنکبوت :۵۰) اس آیت کریمہ میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے ہمیشہ ایسے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جنہیں کامل علم اور کامل معرفت عطا ہوتی رہے گی اور اس کامل معرفت کے نتیجہ میں ان کے ولوں میں اپنے رب کے لئے کامل خوف بھی پایا جائے گا اور اس کے نتیجہ میں ان کے دلوں میں اپنے رب کے لئے کامل محبت بھی پیدا کی جائے گی اور وہ اپنے رب کی قدر کرنے والے ہوں گے تو ایسے ا لوگ چونکہ پیدا ہوتے رہیں گے اس لئے وہ آیات بینات جن کا قرآن کریم کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ قرآن کریم مجسم ہے آیات بینات سے۔وہ ان کے سینوں سے نکلتے رہیں گے۔اور اس روشنی سے دنیا ہمیشہ منور ہوتی رہے گی لیکن کچھ لوگ امت مسلمہ میں ایسے بھی پیدا ہوں گے جو ظالم ہوں گے اور قرآن کریم کے فیوض کے ان دروازوں کو اپنے پر بند کرنے والے ہوں گے ایسے لوگوں کے ذریعہ سے بے شک اللہ تعالیٰ کی آیات بینات ظاہر نہیں ہوں گی لیکن اُوتُوا الْعِلم یعنی وہ لوگ جنہیں کامل علم عطا کیا جائے گا وہ ہمیشہ اُمت مسلمہ میں پیدا ہوتے رہیں گے اور آیات بینات کا دروازہ قیامت تک امت مسلمہ پر کھلا رہے گا۔یہ صرف ایک دعوی نہیں ہے بلکہ تاریخ اسلام اس بات پر شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی سچائی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت ثابت کرنے کے لئے زمین اور آسمان اور ہر زمانہ کو نشانوں سے بھر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔” دوسری علامت سچے مذہب کی یہ ہے کہ مردہ مذہب نہ ہو بلکہ جن برکتوں اور عظمتوں کی ابتدا میں اس میں تخم ریزی کی گئی تھی وہ تمام برکتیں اور عظمتیں نوع انسان کی بھلائی کے لئے اس میں اخیر دنیا تک موجود رہیں تا موجودہ نشان گزشتہ نشانوں کے لئے مصدق ہو کر اس سچائی کے نور کو قصہ کے رنگ میں نہ ہونے دیں۔سو میں ایک مدت دراز سے لکھ رہا ہوں کہ جس نبوت کا ہمارے سید و مولی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا تھا اور جو دلائل آسمانی نشانوں کے آنجناب نے پیش کئے تھے وہ اب تک موجود ہیں اور پیروی کرنے والوں کو ملتے ہیں تا وہ معرفت کے مقام تک پہنچ جائیں اور زندہ خدا کو براہ راست دیکھ ( مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحه ۳۱۱) لیں۔