انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 438 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 438

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالثة ۴۳۸ سورة ال عمران تھی جب تک کہ قرآن کریم کی شریعت جو کامل اور اکمل ہے اس کا نزول نہ ہو جائے اور ہر شریعت کا نزول قوم کی استعداد کے مطابق ہوتا ہے قرآن کریم کی شریعت چونکہ ہر پہلو اور ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے اس لئے اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں (اور اس کے علاوہ کوئی نتیجہ اخذ نہیں کر سکتے ) کہ وہ اقوام جو اس زمانہ میں اور پھر قیامت تک اس کی مخاطب تھیں اور مخاطب رہیں گی وہ اپنی صلاحیتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے قرآن کریم کی حامل ہو سکتی تھیں اور قرآن کریم کی تربیت کو قبول کرنے کے بعد اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض اور برکات سے حصہ لینے کے بعد ان کی شکلیں ان کے حلیے کچھ اس طرح بدلے کہ ایک حقیقت بین نگاہ میں وہ نئے انسان بن گئے یعنی ان کی جو پہلی شکل تھی یا جو پہلے نقوش تھے ان کا کوئی حصہ باقی نہ رہا بلکہ نئے نقوش ابھر آئے جس طرح ریشم کا کیڑا جب ریشم بنا چکتا ہے تو اگر انسان اس کو موقع دے اور ریشم کا وہ جال جو اس نے اپنے اردگرد بنایا ہوا ہوتا ہے اس میں سے باہر نکل آئے تو وہ پہلا کیڑا نہیں رہتا بلکہ اس کا پہلا سر۔پہلی آنکھیں اور پہلا حلیہ بالکل بدل جاتا ہے پہلے اس کے پر نہیں ہوتے لیکن ۲۴ یا ۴۸ گھنٹوں کے اندر اندر اس کے پر نکل آتے ہیں۔نیا سر پیدا ہو جاتا ہے، نئی آنکھیں پیدا ہو جاتی ہیں بالکل یہی مثال ان لوگوں کی ہے کہ جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے پہلے وہ زمین کے کیڑے تھے اور بعد میں ان کو اللہ تعالیٰ نے نئی بصارت دی، نئی آنکھیں دیں، نئے دماغ دیئے۔پرواز کی نئی قوت عطا کی پھر وہ آسمان کی وسعتوں میں اڑنے لگے اور جب یہ قوم پیدا ہو گئی تو وضع للناس کا وعدہ بھی پورا ہو گیا۔ا خطبات ناصر جلد اوّل صفحه ۶۴۹ تا ۶۶۰) میں بتارہا ہوں کہ ان آیات کریمہ میں تئیں مقاصد تعمیر بیت اللہ کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔وہ بعثت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے کس طرح پورے ہوئے پچھلے ایک خطبہ میں وضع لِلنَّاسِ کی تفسیر اس پس منظر میں میں نے پیش کی تھی۔دوسرا مقصد جوان آیات میں بیان ہوا ہے وہ یہ ہے کہ خانہ کعبہ مُبارک ہے میں نے بتایا تھا مُبَارَك کا لفظ یہاں دو معنوں میں لیا جا سکتا ہے۔اول یہ کہ خانہ کعبہ اقوام عالم کے نمائندوں کی قیام گاہ بنے گا اور تمام اقوام سے ایسے لوگ یہاں جمع ہوتے رہیں گے جو روحانی میدانوں کے شیر ہوں گے۔بہادری کے ساتھ ثابت قدم رہنے والے ابطال کی یہ قیام گاہ ہوگی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ اس