انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 437
تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۴۳۷ سورة ال عمران اسے پیدا کیا گیا ہے اور یہ دلیل یوں ہے کہ اگر آپ تمام دنیا کی شریعتوں پر غور کریں تو آپ اس نتیجہ پر پہنچیں گے کہ تمام شریعتیں اس قوم کی استعداد کے مطابق نازل ہوتی رہی ہیں جس قوم کی طرف ان کو نازل کیا جاتا رہا ہے۔حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی طرف جو شریعت بھیجی گئی اس شریعت سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کی روحانی استعداد میں اور صلاحیتیں کیا تھیں جو شریعت حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف نازل ہوئی اس سے ہمیں پتہ لگتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم بنی اسرائیل کی روحانی صلاحیتیں اور استعدادیں کیا تھیں۔باقی سارے انبیاء کی قوموں کا بھی یہی حال تھا بہر حال اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو شریعت بھی جس قوم کی طرف نازل کی جاتی ہے وہ اس قوم کی روحانی صلاحیتوں اور استعدادوں کو مد نظر رکھ کر نازل کی جاتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی فرد یا کسی قوم پر وہ بوجھ نہیں ڈالتا جس کو وہ برداشت نہ کر سکے۔دوسری حقیقت جو بڑی واضح ہے وہ یہ ہے کہ قرآنی شریعت پہلی تمام شریعتوں کے مقابلہ میں اکمل اور اتم اور کامل اور مکمل ہے۔اگر آپ پہلی شرائع کے احکام ( اوامر و نواہی ) کو قرآن کریم کے احکام کے مقابلہ پر رکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ قرآن کریم میں چھ سات صد سے زائد احکام ( اوامر و نواہی) اس اُمت کے لئے نازل کئے گئے ہیں ان کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر معدودے چند احکام کا نزول ہوا۔پھر سینکڑوں ایسے احکام قرآنیہ ہیں جو پہلی کسی شریعت میں بھی ہمیں نظر نہیں آتے اور اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پہلی شرائع کے احکام ( اوامر و نواہی ) محدود تھے بوجہ اس کے کہ اس قوم کی استعدادیں محدود تھیں جس کی طرف انہیں نازل کیا گیا تھا اور قرآن کریم کا ایک کامل اور مکمل شریعت ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ بنی نوع انسان اس زمانہ میں جب قرآن کریم نازل ہوا کامل روحانی استعدادوں کے حامل تھے ورنہ قرآن کریم ان کی طرف نازل نہ ہوتا۔۔۔۔۔۔۔غرض وُضِعَ لِلنَّاسِ ایک مقصد بیت اللہ کی تعمیر کا تھا اور چونکہ یہ اس لحاظ سے بڑا ہی اہم ہے کہ باقی سارے مقاصد کا اس پہلے مقصد کے ساتھ یا پھر جو آخری مقصد رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ آيَتِک میں بیان ہوا میرا اس کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور میں چاہتا تھا کہ اس مقصد کو تفصیل کے ساتھ بیان کروں تا کہ آپ اچھی طرح سمجھ جائیں کہ وضع لِلنَّاسِ کی پیشگوئی پوری نہیں ہوسکتی تھی جب تک ایک ایسی اُمت دنیا میں پیدا نہ ہو جائے جو خیر الام ہو اور وہ اُمت پیدا نہیں ہوسکتی