انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 421 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 421

تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث میں بیان کیا گیا ہے۔۴۲۱ سورة ال عمران اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِن أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ وہ پہلا گھر جو للناس وضع کیا گیا ہے بنایا گیا ہے مکہ میں ہے۔مختلف روایات اور قرآن کریم کی آیات میں جو مفہوم مختلف جگہوں میں بیان ہوا ہے۔اس سے میرے ذہن نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ جب ہمارے آدم کی پیدائش اور بعثت ہوئی (میں نے ہمارے آدم کے الفاظ اس لئے استعمال کئے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ لاکھ کے قریب آدم اس دنیا میں پیدا ہوئے ہیں جو آدم پہلے گذرے تھے۔ان کی اولاد میں سے بعض کو اولیائے اُمت نے اپنے کشف میں دیکھا بھی ہے۔جس کا انہوں نے اپنی کتب میں ذکر کیا ہے ) اس وقت دنیا ایک مختصر سے خطہ میں آباد تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے سب انسانوں کے لئے اپنی حکمت کا ملہ سے آدم پر یہ وحی فرما کر بیت اللہ کی تعمیر کروائی ایک گھر بنوایا اور اس گھر کو تمام بنی نوع انسان کے ساتھ متعلق کر دیا جو اس آدم کی اولاد میں سے تھے لیکن بعد میں جب یہ نسل بڑھی اور پھیلی اور دنیا کے مختلف مخطوں کو انہوں نے آباد کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی روحانی اور ذہنی نشوو نما کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر قوم اور ہر خطہ میں علیحدہ علیحدہ نبی بھیجنے شروع کئے تا ان کو ان راہوں پر چلانے کی کوشش کریں جن راہوں پر چل کر خدا تعالیٰ کا ایک بندہ اپنی استعداد کے مطابق عبودیت کی ذمہ داریوں کو نباہ سکتا ہے اور احادیث سے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اس دنیا میں ایک لاکھ سے اوپر انبیاء گذرے ہیں تو جس آدم کی اولا داس طرح منتشر اور متفرق ہو گئی تھی علیحدہ علیحدہ قوم بن گئی تھی جن کے اپنے اپنے نبی تھے انہوں نے اس گھر کی طرف توجہ دینی چھوڑ دی جو خدا کا گھر اور تمام بنی نوع انسان کے لئے کھڑا کیا گیا تھا اور اس سے اس قدر بے توجہی برتی کہ حوادث زمانہ کے نتیجہ میں اور مرمت اور آبادی نہ ہونے کی وجہ سے اس گھر ( بیت اللہ ) کے نشان تک مٹ گئے لیکن جب اللہ تعالی کا یہ منشاء پورا ہونے کا وقت آیا کہ پھر تمام دنیا عَلى دِينِ واحِد جمع کر دی جائے۔تو اللہ تعالی نے اس گھر کو از سر نو تعمیر کرنے اور اس گھر کی حفاظت کے لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی نسل کو وقف کر دینے کا فیصلہ کیا تا ایک قوم اس بیت اللہ سے تعلق رکھنے والی ایسی پیدا ہو جائے جن کے اندروہ تمام استعداد یں پائی جاتی ہوں جو اس قوم میں پائی جانی چاہئیں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کریم کی پہلی مخاطب ہو۔چنانچہ اڑھائی ہزار سال تک دعاؤں