انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 407
تغییر حضرت خلیفة المسیح الثالثة ۴۰۷ سورة ال عمران اہلِ کتاب کے مقابلہ میں قرآن کریم کی یہ قوت اور یہ طاقت اور اس کے یہ دلائل اشارۃ بیان ہوئے که قرآن کریم توحید خالص کو قائم کرنے والا ہے۔پس مخلصین اور مقربین کا جو گروہ اُمت محمدیہ میں پہلے دن سے آج تک پیدا ہوتا رہا ہے اُنہوں نے یہ ثابت کیا کہ قرآن کریم کا کوئی لفظ واقع میں منسوخ نہیں محض یہی نہیں کہ اس نے مخاطب کر دیا اور مخاطب تھا کوئی نہیں، پھر تو فضا اور ہوا کو مخاطب کیا نا! دراصل ہر سچا مسلمان اس کا مخاطب ہے اور ذمہ دار ہے اس بات کا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کو اس بات کا قائل کرے کہ خدائے واحد و یگانہ کا تصور ہم میں قدر مشترک ہے اور یہ کہ اَلا نَعْبُدَ إِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللهِ اس میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ قرآن کریم نے قل کہہ کر کس کو مخاطب کیا ہے؟ قرآن کریم نے اللہ تعالیٰ کے محبوب مطہرین کو حکم دیا ہے کہ وہ یہ پکاریں یاھل الكتب تَعَالَوْا إلى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ لیکن اگر کوئی ولی اللہ ہی نہیں اور اس فن کا مخاطب ہی نہیں تو مخاطب پھر کس کو کیا گیا ہے در آنحالیکہ قرآن کریم کا تو کوئی لفظ بھی منسوخ نہیں ہو سکتا اس واسطے قرآن کریم کے مخاطب چاہے جو جی ہوں قرآن کریم کہتا ہے کہ اہل کتاب سے کہو اور اُن کو اس بات کی دعوت دو کہ تعالوا الى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ - تَعالوا میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ثابت کریں کہ تو حید خالص کے خلاف لوگوں کے جو عقیدے ہیں وہ غلط اور بے بنیاد ہیں۔بالکل نا معقول اور غیر فطری ہیں بلکہ اُن کی اپنی مذہبی کتب کے خلاف ہیں کیونکہ اُن کے مذہبی عقائد بدل گئے۔اس کی نشاندہی اسلام نے کی اور پھر امت محمدیہ بھری ہوئی ہے ان مطہرین کے گروہ سے کہ جو ہر زمانہ اور ہر قوم میں اور ملک ملک میں اور شہر شہر میں پیدا ہوتے رہے اور وہ اس بات کے اہل تھے کہ قرآن کریم اُن کو مخاطب کر کے کہتا کہ تمہیں ہم کہتے ہیں کہ جاؤ اور عیسائیوں، یہودیوں اور دوسرے اہل کتاب کو پکارو اور انہیں ایک کلمہ پر اکٹھے کرو جو ہمارے اور ان کے درمیان قدر مشترک کے طور پر ہے۔ایسی صورت میں وہ آدمی جو تثلیث کا قائل ہے وہ کہے گا کہ کہاں ہے قدر مشترک؟ میں اس نکتے کو دہرا دیتا ہوں تا کہ ہمارے بچے بھی سمجھ جائیں۔عیسائیوں کا وہ فرقہ جو کہتا ہے تین خدا ہیں جب وہ اس آیت پر پہنچے گا تو وہ کہے گا کہ تین خداؤں کو ماننے والے تو اس کو مشترک نہیں سمجھتے کہ اَلا نَعْبُدَ إِلَّا الله پس اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ امت محمدیہ کے مظہرین کا