انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 385 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 385

تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۸۵ سورة ال عمران ہیں کہ ۳۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللَّهِ الْإِسْلَامُ کے یہ معنی اسلام کے سوا اور کوئی دین قبول نہیں ہو سکتا اور یہ نرا دعوی نہیں تا خیرات ظاہر کر رہی ہیں کہ اگر کوئی اہل مذہب اسلام کے سوا اپنے مذہب کے اندر انوار و برکات اور تاثیرات رکھتا ہے تو پھر وہ آئے ہمارے ساتھ مقابلہ کرئے"۔( الحکم ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۷) میں نے انہیں یہ بتایا تھا کہ قرآن کریم کی یہ روحانی تاثیرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ختم نہیں ہو گئیں بلکہ آپ کے بعد آپ کی جماعت میں جو سلسلہ خلافت قائم کیا گیا ہے اس سے بھی یہ وابستہ ہیں اور آج بھی یہ دعوت مقابلہ قائم ہے۔۴۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس آیت کے چوتھے تفسیری معنی یہ کئے ہیں کہ ” وہ دین جس میں خدا کی معرفت صحیح اور اس کی پرستش احسن طور پر ہے وہ اسلام ہے“۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۱۵) ۵۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک معنی یہ کئے ہیں کہ " سچا اسلام یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ساری طاقتوں اور قوتوں کو مادام الحیات وقف کر دے تا کہ وہ حیات طیبہ کا وارث ہو۔(الحکم ۱۶ اگست ۱۹۰۰ صفحه ۳)۔چھٹے معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ اسلام کی حقیقت ہی یہ ہے کہ اس کی تمام طاقتیں اندرونی ہوں یا بیرونی سب کی سب اللہ تعالی ہی کے آستانہ پر گری ہوئی ہوں“۔( حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پر ایک خط) ے۔ساتویں معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ:۔اللہ تعالیٰ کے نزدیک تو سچا دین جو نجات کا باعث ہوتا ہے اسلام ہے۔وو 66 (احکم ۲۴ /اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱۰)۔آٹھویں معنی اس آیت کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ کئے ہیں کہ سچے اسلام کا یہ معیار ہے کہ اس سے انسان اعلیٰ درجہ کے اخلاق پر ہو جاتا ہے اور وہ ایک ممیز