انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 375 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 375

۳۷۵ سورة ال عمران تغییر حضرت خلیفة المسح الثالث میں ہوگی اور آیات محکمات سے باہر نہیں جاسکتی بلکہ وہ ڈیٹر من( Determine) کرتی ہیں۔وہ معین کرتی ہیں کہ کونسی تاویل یا تفسیر کسی آیت کی درست ہے اور کونسی نہیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ایک کامل کتاب ہے جو نوع انسانی کو دی گئی ہے اور ہمیشہ کے لئے ان کی رہنمائی کرے گی۔کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ انہیں قرآن کے علاوہ کسی اور ہدایت اور رہنمائی کی ضرورت پیش آئے۔قرآن کریم نے آئندہ کی خبریں دی ہیں اور ہر صدی کے متعلق قرآن کریم میں پیشگوئیاں پائی جاتی ہیں جو اپنے وقتوں پر ظاہر ہوتی ہیں۔مثلاً چاند اور سورج گرہن ہونے کی پیش گوئی تیرہ سو سال کے بعد جا کر پوری ہوئی۔اب اگر انسان پر قرآن کریم کی حکومت تیرہ سو سال پر پھیلی ہوئی نہیں تھی تو قرآن کریم میں تیرہ سوسال کے بعد پوری ہونے والی کسی پیشگوئی کی ضرورت نہیں تھی اور اگر قرآن کریم کی حکومت قیامت تک پھیلی ہوئی نہیں ہے تو قیامت تک کی پیشگوئیاں اس میں نہیں ہوں گی لیکن قیامت تک پھیلی ہوئی پیشگوئیاں اس میں موجود ہیں۔قرآن کریم کے نزول پر، اس کامل کتاب کے نزول پر اب قریباً چودہ سو سال گزر چکے ہیں۔اس کا ماضی بھی عملا یہ بتاتا ہے کہ مستقبل میں بھی خدا تعالیٰ اس کے ذریعہ سے انسان کے ساتھ یہی سلوک کرے گا کہ نئی سے نئی باتیں قرآن کریم کی پیشگوئیوں کے مطابق ظہور میں آئیں گی اور پیشگوئیاں پوری ہوں گی، جب نئے مسائل پیدا ہوں گے قرآنِ کریم کی نئی تفسیر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کو سکھائے گا، اپنے مقربین اور اپنے محبوب بندوں کو اور پھر وہ ان مسائل کو حل کریں گے۔پس قرآن کریم میں انت محكمت کے علاوہ ایت مُتشبِھت کا پایا جانا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کریم ایک کامل اور مکمل کتاب ہے۔خدا کہتا ہے کہ یہ ایسی مکمل اور کامل کتاب ہے جس میں متشبھت بھی پائی جاتی ہیں اس معنی میں كه وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَةَ إِلَّا اللهُ وَالرَّسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ أَمَنَا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبَّنَا اس معنی میں جو متشابہات تھیں، جو قرآن کریم کی عظمت بیان کرنے والی اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفعتوں کی طرف اشارہ کرنے والی تھیں منافق انہی متشابہات کی غلط تاویل سے فائدہ اٹھاتا ہے اور جو دنیا کی روشنی کے ذرائع تھے منافق ان کے ذریعے خود اپنے آپ کو بھی اندھیروں میں لے جاتا ہے اور دوسروں کو بھی اندھیروں کی طرف کھینچنے کی کوشش کرتا ہے اور جو مومن ہے وہ ایسا نہیں کرتا لیکن قرآن کریم نے متشبهت سے پہلے محکمت کہا ہے کیونکہ پہلے تو اس کی عظمت ہے یعنی ایک کامل