انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 374 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 374

تغییر حضرت خلیفة لمسیح الثالث ۳۷۴ سورة ال عمران بڑی شان ہے۔میں نے ان آیات میں سے ۹ با تیں منتخب کی ہیں جن کے متعلق میں مختصراً کچھ بیان کروں گا۔۔۔۔۔۔۔جو دو آیات میں نے پڑھی ہیں ان میں سے پہلی کے ساتھ آٹھ باتوں کا تعلق ہے اور پھر آگے دعا ہے۔پہلی بات جو اس آیت سے ہمیں پتہ لگتی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ ایک کامل کتاب نازل کی جارہی ہے اور اس کی دلیل یہ دی کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں ایت محکمت بھی ہیں اور ایت متشبهت بھی ہیں۔اس میں قرآن کریم کے کمال کی دلیل دی گئی ہے۔ایک تو اس میں ایسی آیات ہیں کہ جو ابدی صداقتوں پر مشتمل ہیں۔ایسی آیات ہیں کہ ظاہری طور پر ان کے دو معنی نہیں ہو سکتے بلکہ ان کے ایک ہی معنی ہو سکتے ہیں اور وہ کھلی کھلی صداقتیں ہیں مثلاً خدا تعالیٰ کے متعلق جو قرآن کریم نے کہا کہ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ (الاخلاص : ۲) یہ ایک ابدی صداقت ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق بنیادی چیز ہے کہ خدا ایک ایسی ہستی ہے جس کا کوئی ثانی نہیں۔اب اس کی تاویل نہیں ہو سکتی۔خدا ایک ہے۔یہ حقیقت ہے۔پس اس میں ابدی صداقتیں بھی بیان ہوئی ہیں اور دوسرے اس میں وہ باتیں بھی بیان ہوئی ہیں جن کے ان ابدی صداقتوں کی روشنی میں مختلف معانی ہو سکتے ہیں۔بہت سے صحیح معانی ہیں جن کے اوپر ابدی صداقتوں کی روشنی پڑتی ہے اور وہ ان کو منور کر رہی ہوتی ہے۔ایک معنی بھی درست اور دوسرا بھی درست اور تیسرا بھی درست اور ہزارواں بھی درست اور شاید لاکھواں بھی درست کیونکہ خدا تعالیٰ کے جلوے بے شمار ہیں اور یہ اسی کا کلام ہے اس کے اندر بھی اس کے بے شمار جلوے چھپے ہوئے ہیں اور بے شمار اسرار روحانی اس کے اندر پائے جاتے ہیں جو اپنے اپنے وقت پر ظاہر ہوتے ہیں۔اسی طرح پیشگوئیاں ہیں اگر قرآن کریم ایک کامل کتاب نہ ہوتی اور اس کا تعلق قیامت تک پیدا ہونے والے انسان سے نہ ہوتا تو اس میں ایسی پیشنگوئیاں بھی نہ ہوتیں جن کا تعلق قیامت تک کے انسان سے ہے اور جن کا تعلق بعد میں آنے والے زمانوں سے ہے اور جیسا کہ قرآن کریم نے ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات نے ، خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت نے ہمیں بتایا ہے ساری ہی پیشنگوئیاں اپنے اندر اخفا کا کچھ پہلو رکھتی ہیں۔متشابہات کے بھی یہی معنی ہیں اور اس زمانہ کے حالات، چودھویں صدی کے حالات جو پہلی صدیوں سے مختلف ہیں اس زمانہ کے لئے قرآن کریم کی تفسیر ایسی ہے جس کا تعلق اس زمانہ سے ہے لیکن یہ تفسیر ابدی صداقتوں کی روشنی