انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 355
۳۵۵ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث کے لئے جو انہوں نے اطاعت کی ، خدا کے حکم کو مانا اس میں انہوں نے اخلاص کا ثبوت دیا۔مخلص ہوکر اطاعت کی اور مفردات راغب میں ہے کہ اس کے معنے جو الطاعة اطاعت کے ہیں۔فَإِنْ ذلِكَ لا يَكُونُ فِي الْحَقِيقَةِ إِلَّا بِالإخلاص که حقیقی اطاعت اخلاص کے بغیر ممکن نہیں اور اخلاص جو ہے وہ جبر کے نتیجہ میں پیدا نہیں ہوتا۔والا خلاص لا يتأتى فِيْهِ الْإِكْرَاه جبر کے نتیجہ میں اخلاص نہیں پیدا ہوتا اور نہ ہو سکتا ہے اور اخلاص نہ ہونے کی وجہ سے حقیقی اطاعت نہیں ہوتی اور حقیقی اطاعت نہ ہونے کی وجہ سے کوئی جزا سزا کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔۔دین کے معنی اطاعت اور جزا یا شریعت کے ہیں لیکن یہاں دین کا لفظ نہیں بلکہ الدین کا لفظ ہے یعنی وہ اطاعت جس کا مطالبہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے بعد شریعتِ اسلامیہ میں کرتا ہے۔وہ اطاعت جو اللہ تعالیٰ کی محبت سے اس کے عرفان سے اس کی معرفت حاصل کرنے کے بعد دلوں میں پھوٹتی اور جوارح سے ظاہر ہوتی ہے۔یہ وہ اطاعت ہے جس کا مطالبہ اسلام کرتا ہے اور یہ وہ اطاعت ہے جس پر اللہ تعالیٰ وہ انعامات عطا فرماتا ہے جس پر ان جنتوں کا خدا تعالیٰ نے وعدہ دیا گیا ہے، جس کی بشارتیں قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں دی ہیں اور اگر اس کے معنی شریعت کے ہوں تو الدین کے معنے ہوں گے کامل شریعت جسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے نوع انسانی کے ہاتھ میں دیا گیا۔یہاں یہ بات بڑی وضاحت سے بیان کر دی گئی ہے کہ اطاعت حقیقی کا امکان ہی نہیں جبر کے ذریعہ سے۔کیونکہ اس کی بنیاد اخلاص پر، اس کی بنیاد خدا تعالیٰ کے پیار پر، اس کی بنیاد خدا تعالیٰ کی معرفت کے حصول پر، اس کی بنیاد حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فدائی بن کر خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول پر ہے اور جبر کے ساتھ اگر کسی سے ایمان کا اعلان کروایا جائے یا جبر کے ساتھ اگر کسی سے نیکیاں کروائی جائیں یا جبر کے ساتھ کوئی شخص یہ کہے کہ میرا دل بھی تصدیق کرتا ہے کہ اسلام ایک صداقت اور بنی نوع انسان کے شرف کے لئے آیا ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ جو علام الغیوب ہے وہ ہستی تو کوئی جزا اس کے اوپر نہیں اس کو دے سکتی۔تو اس اطاعت و جزا کو میں نے ایک مفہوم میں بریکٹ کر دیا ہے کہ اطاعت کے ساتھ جزا کا تعلق ہے خالص اطاعت موعودہ جزا کی بشارت دیتی ہے یعنی جو مقبول اعمال ہیں اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو اپنی رضا کی جنتوں میں داخل کرتا ، ان سے پیار