انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 340
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۳۴۰ سورة البقرة سواللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہا کرو کہ أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا اے ہمارے رب ! ہمیں کمال صبر عطا کر۔تو نے ہم سے بہت سے وعدے کئے ہیں جو اپنے وقت پر پورے ہوں گے ایسا نہ ہو کہ ہمارے نفس جلدی کی خواہش کریں اور وہ یقین جو ایک مومن کے دل میں اپنے رب کے وعدوں پر ہونا چاہیے وہ یقین قائم نہ رہے اور ہم بے صبری دکھا ئیں اور پھر بے صبری کے نتیجہ میں ایسے بول بول دیں یا ایسے اعمال کرلیں جو تجھے ناراض کر دیں اور ہم تیری بشارتوں سے محروم ہو جا ئیں۔پھر تو کوئی اور قوم یا کوئی اور نسل پیدا کرے جو تیرے وعدوں کی حامل ہو۔جن کے حق میں تیری بشارتیں پوری ہوں۔اے خدا! ایسا نہ ہو بلکہ ہمیں صبر کے ساتھ انتظار کرنے کی توفیق عطا کر اور ہمیں اس میں بھی کمال بخش تاہم بے صبری کی مضرات سے بچنے والے ہوں اور صبر کے ساتھ تیرے وعدوں کا انتظار کرنے والے ہوں کیونکہ تو اپنے وعدوں کا سچا ہے تو نے آسمانوں پر یہ فیصلہ کیا کہ اسلام کو تمام دنیا میں تو غالب کرے گا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عظمت سب انسانوں کے دلوں میں بٹھائے گا۔اس آسمانی فیصلے کا اس دنیا میں اجراء تو ضرور ہوگا لیکن اپنے وقت پر ہوگا۔اس کیلئے ہمارے امتحان لئے جائیں گے اس کیلئے ہم سے مجاہد ے طلب کئے جائیں گے۔اس کے لئے ہمیں مصائب میں سے گزرنا پڑے گا۔اس کیلئے ہمیں ان منصوبوں اور سازشوں کے خلاف تدابیر کرنی پڑیں گی جو اسلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کی جارہی ہیں۔اے خدا تو ہمیں ہر حالت میں اور ہر معنی میں صبر کی توفیق عطا کر ربَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ شَيْتُ أَقْدَامَنَا صبر کے جو مختلف معنی مفردات راغب میں بیان کئے ہیں وہ دراصل مختلف آیات قرآنی کی تفسیر ہی ہیں اور جب ہم قرآن کریم پر غور کرتے ہیں تو ان معانی کو خود قرآن کریم میں پاتے ہیں جیسا کہ سورہ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاتَّبِعْ مَا يُوحَى إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ وَهُوَ خَيْرُ الْحَكِمِينَ (يونس: ١١٠) اس میں پہلے معنی جو شریعت کے احکام پر سختی سے کار بند رہنے کے ہیں۔اس کی طرف اشارہ ہے کہ جو وحی تمہاری طرف کی گئی ہے۔قرآن کریم کی شریعت نے جو احکام تمہارے سامنے رکھے ہیں ان کی اتباع کرو۔واصبر اور پورے مجاہدہ کے ساتھ ، پورے زور کے ساتھ اپنے نفسوں کو احکام شریعت کا جو دائرہ ہے اس کے اندر باندھے رکھو اور قید رکھو۔بے قیدی کی زندگی نہ گزارو۔یعنی اتباع وحی محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں صبر سے کام لو۔یعنی پورے طور پر اپنے نفسوں پر زور دے کر شریعت کی