انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 339
۳۳۹ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث پس صبر کے ایک معنی ہیں دشمن کے منصوبوں اور سازشوں کا حو صلے اور جرات کے ساتھ مقابلہ کرنا۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہا کرو کہ اے ہمارے ربّ! أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا جو منصو بے اسلام کے خلاف باندھے جائیں جو سازشیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کی جائیں تو ہمیں حوصلہ اور جرات عطا کر کہ ہم ان کا مقابلہ کریں اور انہیں تیرے فضل سے ناکام بنا دیں۔پھر صبر کے چوتھے معنی اس امتحان کے ہیں جو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کا لیتا ہے کیونکہ قرآن کریم میں بڑی وضاحت سے یہ بیان ہوا ہے کہ صرف ایمان کا اقرار اور دعویٰ یا اعلان جو ہے وہ تمہارے کام نہیں آئے گا۔تمہارے ایمان کی صداقت کو پر کھنے کیلئے تمہارا امتحان لیا جائے گا اور وہ امتحان مختلف طریقوں سے ہوگا۔ایک طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالی حوادث زمانہ کی شکل میں امتحان کا پرچہ ڈالے گا۔بچے فوت ہو جائیں گے۔حوادث آئیں گے فصلیں تباہ ہو جائیں گی۔تجارتوں میں گھاٹے پڑیں گے لوگ طعنے دیں گے کہ مسلمان ہو گئے، احمدی ہو گئے دیکھو! تمہیں کتنی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو خالی دعوی کافی نہیں بلکہ اللہ تعالی تمہارا امتحان لے گا اور تمہیں حوادث زمانہ کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس وقت پورے صبر سے ان حوادث کو برداشت کرنا تمہارا کام ہے۔تمہارا سینہ ایسے امتحان کے وقت تنگ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمہارے سینہ میں ایک بشاشت پیدا ہونی چاہیے کہ خدا نے میرا امتحان لیا اور خدا نے اپنے فضل سے مجھے توفیق دی کہ میں اس کے اس امتحان میں کامیاب ہو جاؤں۔فَالْحَمْدُ لِلهِ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہو أفْرِغْ عَلَيْنَا صَبُرا کہ اے ہمارے رب ! تو جب بھی ہمارا امتحان لینا چاہے ساتھ ہمیں اس کی توفیق بھی دے کہ ہم تیرے اس امتحان میں کا میاب بھی ہوں اور جو ہمارے حقیر اعمال ہیں ان کا نتیجہ تیری خوشنودی اور رضا کی شکل میں نکلے۔صبر کے پانچویں معنی ہیں زبان پر قابورکھنا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ دعا کرتے رہو ا فْرِغْ عَلَيْنَا صَبُرا کہ اے خدا! ہمیں اس بات کی قوت بخش کہ ہم اپنی زبان کو اپنے قابو میں رکھیں اور اسلام کی اشاعت میں اور اسلام کے حق میں جو جدو جہد کی جائے اس کے وہ پہلو جو اخفاء میں رکھے جانے چاہئیں ہم انہیں اخفاء میں رکھیں ، ان کو ظاہر نہ کریں اور تو نے ہماری زبان پر جو پابندیاں لگائی ہیں ہم صبر کے ساتھ ان پابندیوں کو اُٹھانے والے ہوں۔صبر کے چھٹے معنی ہیں برداشت کے ساتھ انتظار کرنا، بےصبری نہ دکھانا۔