انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 313
تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث ۳۱۳ سورة البقرة آیت ۲۰۸ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللهُ رءوف بِالْعِبَادِه یہ حکم سننے کے بعد کہ ایک کامل اور مکمل شریعت کا نزول ہو چکا اور ایک حقیقی اور سچے تعلق باللہ کا سامان پیدا ہو گیا اس لئے اے نوع انسان فَاسْتَقِیمُوا إِلَيْهِ وَاسْتَغْفِرُوهُ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کے نتیجہ میں ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا جنہوں نے اپنے نفوس کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے حصول کے لئے بیچ ہی ڈالا اور عمر بھر کا سودا کر لیا یہ نہیں کہ آج ایک عہد باندھا اور کل اسے توڑ دیا۔یہ نہیں کہ آج تو اپنے رب سے ایک سودا کیا اور کل اسے فسخ کیا اور بلکہ عمر بھر کے لئے انہوں نے اپنی جانوں اور اپنے نفوس کا اپنے رب کی رضا کے لئے سودا کر لیا اور اس طرح پر انہوں نے اپنے اس رب کی رافت اور رحمت کے جلوے دیکھے جو ان لوگوں کے لئے رؤوف ہے جو اس کے حقیقی بندے بن جاتے ہیں اور اس قدر حسین جلوے دیکھے کہ ان کی وجہ سے اُمم سابقہ امت مسلمہ پر رشک کریں۔جس نفس کے سودے کا یہاں ذکر ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کو جو اندرونی اور بیرونی اعضاء دیئے گئے ہیں اسے جو باطنی اور ظاہری قوتیں اور استعداد میں عطا ہوئی ہیں وہ اس غرض کے لئے ہیں کہ انسان اپنے رب سے سودا کر لے یعنی یہ عطا ہے وہ ظاہری اعضاء کے لحاظ سے ہو یا باطنی اور روحانی قوتوں اور استعدادوں کے لحاظ سے ہو، ہے ہی اس غرض کے لئے کہ انسان اپنے رب سے ایک زندہ اور سچا تعلق پیدا کر لے اور اس کی نعمتوں کا وارث بنے۔جو قو تیں اور استعداد میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو عطا کی ہیں ان کی اصل غرض یہی ہے کہ ایک اسے اللہ تعالیٰ کی کمال معرفت حاصل ہو جائے دوسرے اس معرفت کے نتیجہ میں حقیقی پرستش اور عبودیت پر دوام اسے مل جائے اور تیسرے اللہ تعالیٰ کے حسن و احسان کے جلوے دیکھنے کے بعد وہ اس کی محبت میں فنا ہو جائے۔انسانی فطرت بھی اسی کی گواہی دیتی ہے اور اس پر شاہد ہے کہ انسان نے جب بھی اپنے اعضاء کو جو خدا تعالیٰ کی عطا تھے اور اپنی قوتوں اور استعدادوں کو جو روحانی ارتقاء کے لئے اسے دی گئی تھیں غلط راہوں پر استعمال کیا تو اس کے نفس نے تسلی نہیں پائی۔ہم ایک موٹی مثال لے لیتے ہیں آج کی دنیا میں انسان نے خداداد قوتوں اور طاقتوں کے استعمال سے ذرے کی طاقت (جسے ایٹامک انرجی Atomic