انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 312 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 312

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۳۱۲ سورة البقرة بہت سی فکریں اور پریشانیاں پیدا کر دی جاتی ہیں غرض قرآن کریم نے فساد کو پسند نہیں کیا اسی طرح فرماتا ہے: فَاذْكُرُوا الآء الله وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ (الاعراف : ۷۵ ) اگر چه یہ آیت حضرت صالح کی قوم ثمود سے تعلق رکھتی ہے لیکن جہاں پرانے انبیاء کی زبان سے اصولی احکام بیان ہوتے ہیں ان کا تعلق ہر مسلمان سے بھی ہے اللہ تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں جان بوجھ کر فساد مت کرو گویا اللہ تعالیٰ نے فساد کی طرف مائل ہونے کو اس کی نعمتوں کی ناشکری قرار دیا ہے اور فرماتا ہے اگر تم خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو یا درکھو اور اس کے شکر گزار بندے بنو تو پھر تم فساد نہیں پیدا کر سکتے اس لئے کہ (جیسا کہ میں نے بتایا ہے ) نہ جان تمہاری اپنی ہے، نہ مال اپنا ہے، نہ مکان اپنا ہے، نہ زمین اپنی ہے ہر چیز خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے اللہ تعالیٰ ہی ان سب کا حقیقی مالک ہے ان اشیاء میں کسی فرد یا قوم کو اس حد تک تصرف کرنے کی اجازت ہے جس حد تک اللہ تعالیٰ نے اس فرد یا قوم کو اجازت دی ہو ورنہ نہیں پس یہ ساری نعمتیں ہیں تم خدا کی ان نعمتوں کا شکر ادا کرو، اگر تم فساد کرو گے، توڑ پھوڑ سے کام لو گے، لوٹ مچاؤ گے، لوگوں کی جانوں کو یا ان کے اوقات کو نقصان پہنچانا چاہو گے تو تم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر رہے ہو گے مثلاً ایک شخص ہے اس نے آٹھ گھنٹے محنت مزدوری کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہے اور تم نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ وہ اپنے کام پر جا نہیں سکتا فساد کی وجہ سے اس کے رستے رک گئے ہیں تو اس کے بچے بھو کے رہیں گے گویا خدا تعالیٰ نے اسے ایک نعمت دی تھی اور تم اس نعمت سے اسے محروم کرنے والے بن گئے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ نعمت خداوندی کو یا در کھتے اور اس کا شکر بجالاتے ہیں وہ فساد نہیں کیا کرتے بلکہ اپنے مال کی ، اپنی جانوں اور اپنے ہمسائیوں۔بھائیوں۔ہم ملک ہم قوم اور دنیا میں بسنے والے ہم عصروں کی جانوں کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے اموال کی حفاظت کرتے ہیں کیونکہ ہر چیز اور ہر مخلوق جو ان کی بصیرت اور بصارت کے سامنے آتی ہے اسے وہ اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سمجھتے ہیں اور اللہ تعالی کی نعمتوں سے نہ وہ خود کو محروم کرنا چاہتے ہیں نہ دوسروں کو محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۰۷ تا ۴۱۰)