انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 298
تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالثة ۲۹۸ سورة البقرة امام راغب سے لئے ہیں۔اس لفظ کے ایک معنے انہوں نے کسی چیز کا انسان کے ہاتھ سے نکل جانا کے کئے ہیں۔اگر چہ وہ چیز تلف نہیں ہوتی ، ضائع نہیں ہوتی لیکن وہ ایک انسان کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔تو اس معنی میں بعض دفعہ ہم کہتے ہیں کہ فلاں چیز ہلاک ہوگئی یا مثلاً یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص کی دولت میں سے اس قدر سونا ہلاک ہو گیا۔عربی محاورہ میں اس کے معنے ہونگے رات کو چور آیا اور سونا چرا کر لے گیا۔اگر چہ ایک انسان کے ہاتھ سے تو وہ سونا نکل گیا لیکن سونا تو ضائع نہیں ہوا۔وہ تو اپنی شکل میں موجود ہے۔اور نہ ہی سونے کی خصوصیت میں کوئی فرق پڑا۔وہ بازار میں مارکیٹ کے نرخ پر بک جائے گا اور چور کو اس کے پیسے مل جائیں گے یا کسی سنار کے ہاتھ میں یہ مال حرام چلا جائے گا اور وہ اس سے کسی کی بیوی یا لڑکی کے لئے زیور بنا دے گا۔غرض سونا چونکہ ایک بڑی قیمتی دھات ہے۔اس کی یہ خصوصیت ہے کہ اس کی قیمت میں اس قسم کی ہلاکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جب یہ چوری ہو جاتا ہے تو گویا جو اس کا مالک تھا اس کے ہاتھ سے نکل گیا اور اس کا جو حق دار نہیں تھا اس کے پاس چلا گیا۔پس اس معنی میں عربی زبان میں أَهْلَكَ یا الْهَلَاكُ کا لفظ بولا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز مثلاً سونا ہے وہ ضائع نہیں ہوا لیکن ایک آدمی کے ہاتھ سے نکل کر دوسرے کے ہاتھ میں چلا گیا۔جس کے ہاتھ سے نکلا اس کے متعلق کہتے ہیں کہ اس شخص کا سونا بلاک ہو گیا۔اس کے دوسرے معنے ہیں هَلَاكُ الشَّيْء بِاسْتِحَالَةٍ وَ فَسَادٍ یعنی کوئی چیز خراب ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو گئی۔مثلاً کھانے کے متعلق جب عربی میں یہ کہیں گے کہ هَلَكَ الطَّعَامُ تو اس کے معنے ہوں گے کھانا خراب ہو گیا ہمارے جلسہ سالانہ پر صبح دال کی دیگیں پکتی ہیں بعض دفعہ اگر وہ بچ جائیں تو دوسرے وقت تک وہ اہل رہی ہوتی ہیں ایسے موقع پر عربی میں کہیں گے هَلكَ الطَّعَامُ کھانا ہلاک ہو گیا یعنی خراب ہو گیا۔پھر اِسْتِحَالَةٌ کے ایک معنی تَحَولَ مِنْ حَالٍ إلى اخر کسی چیز کی حالت بدل کر دوسری حالت میں آگئی۔دراصل هَلَكَ الطَّعَامُ کے بنیادی معنی بھی یہی ہیں تاہم اس کی شکل تھوڑی سی بدلی ہوئی ہے۔استحالة کے دوسرے معنے صَارَ مَحَالا کے ہوتے ہیں اور محال کے معنے باطل کے ہیں یعنی ایسی چیز جو ہر جہت سے فساد کی مقتضی ہو عربی زبان میں محال کہلاتی ہے۔