انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 291 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 291

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۹۱ سورة البقرة کے لئے میں حاصل کروں اور اپنے نفس کی اس کامل اور صحیح نشوونما کے بعد جب خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو جائے انسان کے تو جو دنیا کی نعمتیں ہیں ان کو حاصل بھی کروں اس رنگ میں جو تجھے پسند ہو اور استعمال بھی کروں اس طریق پر جو تیری رضا کے حصول میں مرد اور معاون ہو۔بہت سارے لوگ ہیں جو غلط طریق سے خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کر کے گناہگار بن جاتے ہیں اور بہت سے لوگ ہیں جو صحیح طریق پر تو خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو حاصل کرتے ہیں لیکن غلط استعمال کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کو ناراض کر دیتے ہیں۔تو ایک نہ ختم ہونے والا سمندر ہے دعاؤں کا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کے اس فقرے کے اندر جو خدا تعالیٰ نے بیان کر دیا۔۔وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً اور خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہیں جو میں نے نعماء عطا کیں جو رحمت اور فضل موسلا دھار بارش کی طرح تم پر نازل ہوئے وہ تمہاری دُنیوی اور ور لی زندگی کے ساتھ ہی تو تعلق نہیں رکھتے اُخروی زندگی کے ساتھ بھی ان کا تعلق ہے بلکہ اُخروی زندگی کے ساتھ ہی ان کا صحیح تعلق ہے اور یہ ساری چیزیں اسی لئے تمہیں دی گئی ہیں کہ تم اپنی آخرت کو سنوارو۔اس واسطے دعا کرو کہ اے خدا! ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا اور یہ دنیا کی نعمتیں ہمیں اخروی زندگی کی جنتوں کی راہوں پر چلا کر ان جنتوں تک پہنچانے والی ہوں تجھے ناراض کر کے ہمیں جہنم کی طرف لے جانے والی نہ ہوں۔میں نے بتایا کہ یہ دعا جو ہے اتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِيهِ ایک ایسی دعا ہے جس میں دعا کا ایک عالم کا عالم کھولا گیا اور ہمیں اس چھوٹی سی آیت میں بہت کچھ خدا تعالیٰ نے بتادیا کہ کیا مانگنا ہے کس طرح مانگتا ہے پھر اسی سے آگے ہم چلتے ہیں اس دروازے میں داخل ہوکر۔( خطبات ناصر جلد ہشتم صفحه ۲۹۸،۲۹۷) پس رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کی جب دُعا سکھائی گئی تو اس کے ایک معنے یہ ہوئے کہ ہم خدا سے یہ کہیں کہ اے خدا! ہم نے انتہائی محنت اور انتہائی تدبیر کر دی دُنیا کمانے کے لئے ہم نے اپنی تدبیر کو انتہا تک پہنچا دیا اور اسی طرح دعا کو بھی انتہا تک پہنچا دیا ہے اور اب اس مقام پر کھڑے ہو کر ہم یہ کہتے ہیں رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً کہ اے ہمارے رب! ہماری تدبیر اور ہماری دُعا تیرے فضل اور تیری رحمت کے بغیر نتیجہ نہیں پیدا کر سکتی اس لئے تو اپنے فضل سے اس کا نتیجہ پیدا کر اور اس