انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 281
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۸۱ سورة البقرة فرمایا کہ تو بہ کا جو اشارہ ہے اس میں، یہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان ایک وقت تک اللہ کے علاوہ ، رب حقیقی کے علاوہ بعض دیگر ارباب بھی اپنے سامنے رکھتا ہے۔اس نے حقیقی رب ، رب کریم کو چھوڑ کے یا اس کے ساتھ ہی دوسرے خدا، ارباب بنالئے ہیں۔تو یہاں جو اشارہ ہے تو بہ کا اس کے یہ معنے ہیں کہ جو ہم نے بہت سے ارباب اس سے پہلے بنائے ہوئے تھے اب ہم ان کو چھوڑتے ہیں اور ان سے تعلق جو تھا ہمارا اس سے تو بہ کرتے ہیں اور اے رب حقیقی ! ربنا ! ہم تیری طرف آتے ہیں اس تو بہ کے بعد۔اور جب یہ حقیقی معنے میں استعمال ہو دعا میں تو اس میں درد بھی ہے اس احساس کی وجہ سے کہ غیراللہ کو رب بنائے رکھا اور سوز و گداز بھی ہے اس غم کی وجہ سے کہ جورب حقیقی تھا اس سے پورا اور کامل اور حقیقی اور ذاتی تعلق ہم نے قائم نہیں کیا اور اس ہستی کو جو رب ہے اور بتدریج کمال کو پہنچانے والی اور پرورش کرنے والی ہے اس سے ہم دور رہے اور اس حقیقت کو نہیں پہچانا کہ انسان کی زندگی کا ایک مقصد تھا اور یہی دنیا سب کچھ نہیں تھی۔مرنے کے بعد زندہ رہنا تھا انسان کی روح نے اور خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو بتدریج ارتقائی ادوار میں سے گزرنے کے بعد پہلے سے زیادہ حسن میں، پہلے سے زیادہ لذت والی خاصیت رکھنے میں ہمیں وہ نعما ملتی تھیں اور ان کو ہم بھول گئے اور اسی کو سب کچھ سمجھ لیا تو اس درد اور سوز وگداز کے ساتھ انسان کہتا ہے رہنا اے ہمارے حقیقی رب ! اے رب کریم !! ہم بھٹکے ہوئے تھے، ہمیں تو نے روشنی دکھائی اور اب ہم تیری طرف لوٹتے ہیں۔اس معنی میں اس ندا اور التجا میں تو بہ کا ایک پہلو بھی ہے لیکن جو ربنا کہنے والے اس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جن کا ذکر پہلی آیت میں ہے انہیں تو غیر اللہ سے انہوں نے جوار باب بنالئے اللہ کے علاوہ ان سے ) انہیں چھٹکارا نہیں ملا، وہ اللہ پر بھی ایمان لاتے ہیں بظاہر ، اپنے حیلوں پر اور دغابازیوں پر بھی بھروسہ رکھتے ہیں جھوٹ اور افتراء پر ان کا تو کل ہے۔اپنے علم اور قوت پر ان کو گھمنڈ ہے، اپنے حسن یا مال یا دولت پر ان کو فخر ہے، چوری اور راہنر نی اور فریب کو انہوں نے اپنا رب بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی رب حقیقی کو بھی پکارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس دنیا کا مال ہمیں دے، مال حلال ہو یا حرام ہو ہمیں دنیا کا مال چاہیے، اس دنیا کا اقتدار دے خواہ وہ تیرے بندوں کی خدمت کرنے والا ہو یا نہ ہو، جو خیلے اور دغا بازیاں ہم کریں، جو جھوٹ اور افتر اہم باندھیں ، جو علم ہم نے حاصل کیا ہو، جو قوت تو نے ہمیں عطا کی ہے اس کو صحیح استعمال کریں یا غلط ہماری منشاء کے مطابق ان کا نتیجہ نکال اور اس دنیا میں ہمیں کامیاب کر،