انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 266
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۲۶۶ سورة البقرة نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے گھروں کی بجائے ( مجبوریوں کے نتیجہ میں ) مسجد نبوی میں آکر یا مسجد نبوی کی برکت کے حصول کے لئے تراویح پڑھتے ہیں تو آپ نے ان سب کو اکٹھا کر کے اور با جماعت یہ نوافل شروع کروا دیئے۔پس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں تراویح باجماعت شروع ہوئی۔انفرادی نوافل ( رات کے آخری حصہ میں پڑھنے میں ) اپنا ایک مزہ رکھتے ہیں لیکن جماعت میں شامل ہو جاتے ہیں بہت سے وہ لوگ جو انفرادی طور پر اس رنگ میں نوافل ادا نہیں کر سکتے۔وہ لوگ جو قرآن کریم کا دور نہیں کر سکتے کیونکہ ان کو قرآن کریم حفظ نہیں ، مسجد میں آکے ایک حافظ کے پیچھے وہ نماز پڑھتے ہیں اور پورے قرآن کریم کا دور بھی ہو جاتا ہے اور دعائیں بھی کر لیتے ہیں۔بہت سے دوست ہیں میں جانتا ہوں ، جو مثلاً شروع رات میں جو با جماعت تراویح پڑھی جاتی ہیں اس میں بھی شامل ہو جاتے ہیں اور پھر آخری حصہ رات میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہوتے ہیں۔رمضان مبارک میں شروع رات میں تو بہت سے نوجوان اور بچے اور بہت سی مستورات بھی شامل ہو جاتی ہیں اس کے اپنے فوائد ہیں لیکن اصل چیز یہ ہے کہ دعاؤں کا عام دنوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ موقع ملتا ہے انسان کو اور قبولیت دعا کے لئے انسان اپنے رب کو راضی کرنے کی خاطر اور بہت ساری عبادتیں خاص طور پر اس ماہ میں دوسرے مہینوں کے مقابلہ میں زیادہ بجالاتا ہے۔مثلاً حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق آیا ہے کہ آپ بڑے سخی تھے لیکن رمضان کے مہینہ میں آپ کی سخاوت میں اتنی شدت پیدا ہو جاتی تھی کہ دوسرے مہینوں میں وہ شدت نہیں ہوا کرتی تھی۔غرباء کا خیال رکھنا نیز مسکینوں کا ، جو نسبتاً غریب ہیں ان کو سہارا دینا دعاؤں کے ساتھ ، ان کی دنیوی ضروریات کو پورا کر کے۔تو یہ مہینہ دعاؤں کا مہینہ ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ چیخنے کی ضرورت نہیں میں دُور تو نہیں ہوں کہ زور زور سے چیخ کے مجھے پکارو گے میں قریب ہوں۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ علیحدہ بھی نماز پڑھ رہے ہو یعنی نوافل بالکل خاموشی سے اور بے آواز بھی قرآن کریم نہ پڑھو اور بہت اونچی آواز سے بھی نہ پڑھو۔ویسے عام طور پر جس طرح پڑھا جاتا ہے نوافل میں اس طرح نہیں بلکہ آواز نکالومنہ سے، سنتِ نبوی یہ ہے۔اس آیت میں ایک اہم چیز بھی ہمیں پتالگتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ دعا کرنے والا جب مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔اسلام بنی نوع انسان کا