انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 265 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 265

۲۶۵ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسح الثالث اعمال جو ہیں وہ مقبول اعمال نہیں بن سکتے۔آگے ہے فَقَدْ كَذَّ بتُم تم نے میری صفات کا انکار کر دیا۔تم نے میری ہدایت پر چلنے سے انکار کر دیا۔تمہارے اعمال جو تم بظاہر بے تحاشا پیسے خرچ کر کے علیحدہ دوسری جگہ ذکر آیا اس کا ، مجھے خوش کرنا چاہتے ہو بالکل خوش نہیں کر سکتے۔تمہارے اعمال مجھے خوش نہیں کر سکتے۔جب تک تم دعاؤں کے ذریعہ سے میری رحمت کو جذب کر کے اپنے اعمال صالحہ کو اعمال مقبولہ نہ بنالو۔یہ دو باتیں سمجھانے کے لئے رکھ رہا ہوں میں ایک آپ کے دائیں طرف اور ایک بائیں طرف۔پھر فرمایا۔اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : 1) حکم دیا ہے پھر۔یعنی محض بندہ پر یہ کہہ کے بندہ پر یہ بات نہیں چھوڑی کہ دعا کرتا ہے یا نہیں۔ایک طرف یہ کہا میں تمہارے قریب ہوں۔مجھ سے ملنا چاہتے ہو دعائیں کرو۔میں قبول کروں گا۔دوسری طرف یہ کہا کہ تم مجھ سے میرا پیار حاصل کرنا چاہتے ہو اس لئے تم اعمال صالحہ بجالاتے ہو میری ہدایت کے مطابق جو قر آنی شریعت میں نازل ہوئی نہیں قبول کروں گا جب تک کہ تم دعا کے ذریعہ سے میرے فضل اور میری رحمت کو حاصل کر کے وہ ہزاروں لاکھوں رخنے اور سوراخ جو تمہارے اعمال میں ہوتے ہیں اور اس قابل نہیں چھوڑتے تمہارے اعمال کو کہ قبول کئے جائیں ان پر دعا کے ذریعہ سے میری مغفرت کی چادر نہ ڈالو۔میں خود ہی چادر ڈالوں گا ان پر اگر دعا تمہاری قبول ہو جائے گی اور تمہارے اعمال کو اس قابل سمجھ لوں گا کہ میں انہیں قبول کرلوں لیکن یہ دونوں اپنی اپنی جگہ بیان ہیں، حکم نہیں۔حکم یہ ہے اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم دعائیں کرو۔میں دعاؤں کو قبول کروں گا۔(خطبات ناصر جلد نم صفحه ۲۰۰ تا ۲۰۲) اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو جواب دے کہ میں ان کے پاس ہی ہوں جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا کو قبول کرتا ہوں۔چاہیے کہ دعا کرنے والے بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تا کامیابی کی راہیں ان پر کھلیں اور ان کی دعائیں قبول ہوں۔ماہِ رمضان دعاؤں کا مہینہ ہے خاص طور پر۔روزے کے علاوہ ہم نوافل پر بھی خصوصاً زور دیتے ہیں اس ماہ میں تراویح ہوتی ہیں وہ نوافل ہیں۔اصل تو یہ تھا کہ علیحدہ علیحدہ ہر شخص رات کی تنہائی میں اپنے رب کے حضور جھکتا اور اس سے دعائیں مانگتا لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں جب آپ