انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 257
۲۵۷ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث رکھنا میں تمہاری سہولت کے سامان پیدا کرنا چاہتا ہوں اگر مریض ہو ( طبیعت بہانہ جو نہ ہو ) انسان واقعہ میں مریض ہو اور ڈاکٹر کہتا ہو کہ روزہ تمہاری صحت کو مستقل طور پر خراب کر دے گا یا تم اس روزے کو برداشت نہیں کر سکتے یا تمہارے لئے مثلاً ہر دو یا تین گھنٹے کے بعد دوا کھانا ضروری ہے تو تم روزے نہ رکھو پھر بعض ایسے مریض بھی ہوتے ہیں جن کو ڈاکٹر کہتا ہے کہ ہر دو گھنٹہ یا تین گھنٹہ کے بعد تم کچھ کھاؤ ورنہ تم مرجاؤ گے ان کی کانسٹی ٹیوشن (Constitution) یعنی جسم کی بناوٹ ایسی ہوتی ہے کہ ان کے معدہ میں غذا نہیں رہتی یہ مستقل نیم بیماری کی قسم ہے ان کو تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد کھانے کی ضرورت پڑتی ہے ایسے مریضوں کو ڈاکٹر کہے گا کہ اگر تم نے اپنی صحت کو برقرار رکھنا ہے اور خود اپنے آپ کو جسمانی طور پر ہلاکت میں نہیں ڈالنا تو تمہیں ہر دو تین گھنٹہ کے بعد کچھ کھانا چاہیے پھر بعض بیماریاں ایسی ہیں جن میں خون کی شکر کم ہو جاتی ہے اور اگر وہ شکر جسم کو نہ ملے تو انسان بے ہوش ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ موت واقع ہو جاتی ہے میں نے دیکھا ہے کہ ایسے لوگ بعض دفعہ آدھ آدھ گھنٹہ کے بعد میٹھے کی طرف دوڑتے ہیں کیونکہ جسم میٹھا مانگ رہا ہوتا ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے میٹھا دو ورنہ میں گیا ایسے شخص کو خدا کہتا ہے کہ تم رمضان میں روزہ نہ رکھو اور اس لئے روزہ نہ رکھو کہ تمہارے لئے یہ سیدھا راستہ ہم نے ہلاکت اور سختی اور تنگی پیدا کرنے کے لئے نہیں بنایا بلکہ سہولت اور آسانی کے لئے بنایا ہے ہم اپنے پیار کی وجہ سے جو سہولتیں تمہیں دے رہے ہیں ان کو پیار اور شکر اور حمد کے ساتھ قبول کرو اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو تم نا شکر گزار ہو جاؤ گے۔(خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۴۳۴ تا ۷ ۴۳) قرآن کریم کی اپنی ایک عظمت ہے اور بڑی ہی عظمت ہے۔اس آیت میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہے یہ بتایا گیا ہے کہ تین باتیں قرآن کریم کی عظمت کو ثابت کرنے والی ہیں۔ایک تو یہ کہ هُدًى لِلنَّاسِ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آیت کے اس ٹکڑا کی بہت سی تفسیریں کی ہیں۔ایک تفسیر آپ نے یہ کی ہے کہ ھدی للناس کا مطلب یہ ہے کہ جو ہدایت لوگ بھول چکے تھے اسے دوبارہ پیش کرنے والا۔ہدایت تو حضرت آدم علیہ السلام کے وقت سے آنی شروع ہوئی اور بہت سی ا شریعتیں نازل ہوئیں لیکن وہ اُمتیں جن کی طرف مختلف اوقات میں شریعتیں نازل ہوئیں۔ایک وقت گزرنے کے بعد ان کی زندگی میں روحانی طور پر دو تبدیلیاں آئیں۔ایک تو یہ کہ روحانی طور پر ارتقاء کے کچھ مدارج وہ طے کر چکے تھے اور روحانی طور پر زیادہ بوجھ کو اُٹھانے کے قابل ہو چکے تھے