انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 218 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 218

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۲۱۸ سورة البقرة کمزور ہو گیا ہے، چلنے پھرنے کی بھی طاقت نہیں، لوگوں کے سہارے سے اٹھ رہا ہے اور اس حالت میں رمضان آیا پھر خدا تعالیٰ نے اس کو دس سال اور زندگی دی تو دس رمضان کے روزے اس نے گزارے ہیں۔اس کے لئے یہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ رمضان کے روزے جو چھوٹ گئے ہیں وہ بعد میں رکھ لے۔ایک یہ گروہ ہے۔یا مثلاً ٹی بی کا بیمار ہو گیا نو جوان اور بیمار ہی رہا اس کو آٹھ ، دس، پندرہ بیس سال خدا نے زندگی دی اور ڈاکٹر اس کو دن میں پانچ دفعہ انجیکشن (Injection) لگاتے ہیں یا دوائی دیتے ہیں یا کینسر کا بیمار ہے وہ کہتے ہیں اتنے اتنے وقفے کے بعد ایک دن میں چار خوراکیں دوائی کی کھاؤ، روزہ رکھنے کا سوال ہی نہیں اس کے لئے اور چند سالوں کے بعد اس کی وفات ہو جاتی ہے۔یہ دوسری قسم ہے اور یا ایسا عذر ہے جو سال بھر اس کو روزہ نہیں رکھنے دے گا چونکہ اگلے سال سے پہلے پورے کرنے تھے نا اس واسطے اس کے روزے نہیں رکھے یعنی اس ماہ رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کر دئیے۔مثلاً ایک حاملہ ہے، حاملہ کے لئے روزے رکھنے کی اجازت نہیں ہے۔ایک حاملہ ہے جس نے بچہ جننے کے بعد دودھ بھی پلانا ہے اپنے بچے کو دودھ پلانے والی ماں نے روزہ نہیں رکھنا۔تو سال گذر گیا ممکن ہے اس سے بھی زیادہ زمانہ گذر جائے لیکن ایک سال تو یقیناً گذر گیا نا۔رمضان میں وہ حاملہ ہے، چھ مہینے کے بعد اس نے بچہ جنا، دودھ پلانا شروع کر دیا وہ اگلے رمضان تک کے جو گیارہ مہینے ہیں ان میں وہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہوئی، یہ اجازت اس کو ملی ہے۔اس واسطے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ بھی اس کے روزے نہیں رکھیں گی اور نہ روزے پورے کریں گی بعد میں۔اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے شریعت کی بنا آسانی پر، ٹیسر پر رکھی ہے عسر پہ نہیں رکھی اور ہمیں دعا بھی سکھائی وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِه (البقرة: ۲۸۷) اس کے یہ معنی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے یہ ممکن تھا کہ وہ ہمارے اوپر ایسا بوجھ ڈال دے جس کے اٹھانے کی اس نے ہمیں قوت ہی نہ عطا کی ہو خدا تعالی تو ایسا کر ہی نہیں سکتا اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم تیرے دین کے احکام کی ایسی انٹر پر ٹیشن (Inter-Pretation) ایسی تفسیر نہ کر لیں کہ اس پر عمل ما لا يطاق بن جائے ہمارے لئے ہمیں فراست عطا کر کہ تیری مرضی کے مطابق ہم تیرے احکام کو بجالانے والے ہوں اور مَا لَا طَاقَةَ لَنَا نہ ہو بلکہ بشاشت اور شرح صدر کے ساتھ ہم تیرے احکام کو پورا کرنے والے ہوں۔