انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 190
تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث ۱۹۰ سورة البقرة نہیں تمہیں ملے یا نہ ملے اور وہ بیوقوف یہ نہیں سمجھتا کہ پہلے جو دولت آئی تھی وہ شیطان نے تو نہیں دی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس دولت کو پیدا کیا۔اور ان طاقتوں کو بھی پیدا کیا جن کی بدولت اسے وہ دولت ملی۔اس کا اپنا تو کچھ نہیں۔اسی طرح جو شخص صاحب اقتدار بن جاتا ہے سیاسی میدان میں کامیابی حاصل کر لیتا ہے تو پھر وہ کہتا ہے اگر میں انصاف کروں تو شاید میرا اقتدار جاتا رہے کیونکہ صاحب اقتدارلوگوں سے بے انصافی کے تقاضے بھی کئے جاتے ہیں۔ان سے ظلم کے تقاضے بھی کئے جاتے ہیں۔آخر شیطان کو قیامت تک جو مہلت دی گئی ہے تو اس کا یہی مطلب تھا کہ شیطان کو قیامت تک دوست ملتے رہیں گے جن کو وہ ڈراتا اور خوف دلاتا رہے گا۔چنانچہ مطالبہ ہوتا ہے کہ فلاں حصہ ملک پر یا فلاں جماعت پر یا فلاں گروہ پر ظلم کرو ورنہ ایجی ٹیشن ہوگی، ورنہ اقتدار تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے گا۔پس شیطان اپنے دوستوں کو اس قسم کی باتوں سے ڈراتا رہتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ہمیں یہ ہدایت دیتا ہے کہ فَلا تَخْشَوهُم - شیطان کے دوست الہی احکام کے خلاف الہی شریعت کے خلاف اور حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ حسنہ کے خلاف لوگوں کو مختلف حیلوں بہانوں سے ڈراتے ہیں مگر تم نے ان سے نہیں ڈرنا۔ایک ہی چیز ہے ایک ہی وجود ہے اور ایک ہی ہستی ہے جس کے خوف سے انسان کے دل میں خشیت پیدا ہونی چاہیے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرما یا فَلَا تَخْشَوهُم وَاخْشَونِ شیطان کے دوستوں سے مت ڈرو صرف مجھ سے ڈرو اور میری خشیت اختیار کرو۔میں نے اس وقت دنیا کی نعمتوں کے ضیاع کے خوف کا حصہ زیادہ نمایاں کیا ہے ورنہ یہ چیز ہر قسم کے خوف کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔تاہم نعمتوں کے ضیاع کے خوف کی طرف میری توجہ ولاتم نعمتى عَلَيْكُمْ کے نتیجہ میں پیدا ہوئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اس عالمین کو پیدا کیا اور اس قابل بنایا کہ وہ تمہاری خدمت کر سکے۔تم اُسے مسخر کر سکو تسخیر کائنات کے لئے تمہیں ہر قسم کی طاقتیں دیں۔اس کائنات کی ہر چیز حتی کہ ان ستاروں سے لے کر جن کی روشنی ابھی تک زمین تک نہیں پہنچی زمین کے ذروں تک کو تمہاری خدمت پر لگا دیا کہ تم اُن پر حکومت کرو اور اُن سے فائدہ اُٹھاؤ۔جیسا کہ میں بتا چکا ہوں یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان کو بڑی طاقتیں اور