انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 189
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث ۱۸۹ سورة البقرة خدا تعالیٰ کے پیار کو دیکھتے ہوئے بھی تم پر الزام لگائے تو تم اس کی پرواہ نہ کرو کیونکہ بصارت رکھنے والی دنیا، آنکھیں رکھنے والی دنیا اور عقل رکھنے والی دنیا اعتراض نہیں کر سکے گی۔دنیا یہ اعتراض نہیں کر سکے گی کہ تم ان مقاصد کو بھول گئے ہو یا یہ کہ اس زمانے میں خانہ کعبہ تمہارے قبضے میں نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے فرما یا مسلمانو! خانہ کعبہ یا بیت اللہ تمہیں ملے گا اور پھر قیامت تک تمہارے پاس رہے گا لیکن جن ذمہ داریوں کا تعلق خدا تعالیٰ کے اس گھر سے ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تحفظ اپنے پیارے بندے، اپنے محبوب محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیا تھا۔ان ذمہ داریوں کو ہمیشہ اپنی نگاہ میں رکھنا۔ان کو کبھی نظر انداز نہ کر دینا۔پھر سوائے ظالموں کے کسی اور کا تم پر اعتراض نہیں رہے گا۔کوئی حجت نہیں ہوگی۔تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے دیکھنے لگو گے۔پھر اندھیرے تمہاری نگاہ کے سامنے نہیں آئیں گے کیونکہ جب تم اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا کر لو گے تو پھر تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے جلال کے جلوے دیکھو گے اور تم پر اس کی نعمتیں نازل ہوں گی۔فرمایا وَلِأُتِمَّ نِعْمَى عَلَيْكُمْ ال محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب ہونے والی امت ( جسے ہم امت مسلمہ کہتے ہیں) تم پر اتمام نعمت ہو جائے گی۔پھر دنیا یہ مانے پر مجبور ہو جائے گی کہ محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور تمام بنی نوع انسان اور تمام مخلوق کے رب نے وہ پیار جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس امت سے کیا وہ پیار اور کسی سے نہیں کیا۔پھر فرمایا وَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ اس پیار کے نتیجہ میں کامل اور آخری کامیابی تمہیں نصیب ہوگی۔مگر دامن محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دفعہ پکڑ کر پھر اس کو چھوڑ نا نہیں۔پھر تم خدا تعالیٰ کی آنکھوں میں اپنے لئے وہ پیار دیکھو گے جو دنیا کے سارے خزانوں اور دنیا کی ساری نعمتوں سے کہیں بڑھ کر ہے پھر تمہیں کسی کی کیا پر واہ رہے گی۔خطبات ناصر جلد چہارم صفحه ۱۴۸ تا ۱۵۴) اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کی آیت کے اس ٹکڑے میں جس کی میں نے ابتداء میں تلاوت کی تھی فرمایا ب فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوني یعنی تم ان شیطانی وساوس یا شیطان صفت لوگوں سے مت ڈرو اور مجھے سے ڈرو۔اسی ضمن میں اللہ تعالی قرآن کریم میں ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔إِنَّمَا ذَلِكُمُ الشَّيْطَنُ يُخَوفُ اَوْلِيَاءَة فَلَا تَخَافُوهُمْ وَخَافُونِ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ (آل عمران : ۱۷۶) یعنی شیطان اپنے دوستوں کو ڈراتا ہے۔جو لوگ شیطان کے دوست بن جاتے ہیں اور خدا کے دوست نہیں رہتے ان کے دل میں شیطان خوف پیدا کرتا ہے کہتا ہے دیکھو! دولت چلی گئی تو پھر پتہ