انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 166 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 166

۱۶۶ سورة البقرة تفسیر حضرت خلیفہ امسح الثالثة جمع ہوا کریں گے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے قریباً اڑھائی ہزار سال پہلے یہ بتایا تھا کہ تمام اقوام عالم کے نمائندے بار بار یہاں آئیں گے طواف کرنے کے لئے بھی اور دوسری ان اغراض کے پورا کرنے کے لئے بھی جن کا تعلق خانہ کعبہ سے ہے۔تیرھواں مقصد یہ بیان کیا گیا ہے کہ والعکفین خانہ کعبہ اس غرض سے از سر نو تعمیر کروایا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعہ سے ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کرنے والے ہوں اور اس طرح بیت اللہ کے مقاصد کو پورا کرنے والے ہوں۔چودھواں مقصد یہاں یہ بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ والدرع السُّجُودِ ایک ایسی قوم پیدا کی جائے جو توحید باری پر قائم ہو اور جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے اپنی زندگیوں کو گزار نے والی ہو۔پندرھواں مقصد یہ بیان ہوا ہے کہ بلدا امنا۔امن کا لفظ ان آیات میں تین مختلف مقاصد کے بیان کے لئے اللہ تعالیٰ نے استعمال کیا ہے۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس گھر کو دنیا کے ظالمانہ حملوں سے اپنی پناہ میں رکھیں گے اور کوئی ایسا حملہ جو خانہ کعبہ کو مٹانے کے لئے کیا جائے گا وہ کامیاب نہیں ہو گا بلکہ حملہ آور تباہ و برباد کر کے رکھ دیئے جائیں گے تا دنیا اس سے یہ نتیجہ اخذ کرے کہ وہ نبی جسے ہم یہاں سے مبعوث کرنا چاہتے ہیں وہ بھی خدا تعالیٰ کی پناہ میں ہوگا اور دنیا کی کوئی طاقت اس کی ذات کو ہلاک یا اس کے مشن کو نا کام نہیں کر سکے گی اور تا دنیا یہ بھی نتیجہ نکالے کہ جو شریعت نبی معصوم کو دی جائے گی وہ ہمیشہ کے لئے ہوگی اور خدا تعالیٰ اس کی حفاظت کا خود ذمہ دار ہوگا۔سولہویں غرض جو خانہ کعبہ سے وابستہ ہے وہ یہ ہے کہ وارزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَرَاتِ اس میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ بتایا کہ میں بیت اللہ کو از سر نو تعمیر کروا رہا ہوں اس غرض سے بھی کہ تا بیت اللہ اور اس کی برکات کو دیکھ کر دنیا اس نتیجہ پر پہنچے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں اپنے پر موت وارد کرتے ہیں اور اس کے ہو کر اس کی راہ میں قربانی دیتے ہیں اور دنیا سے کٹ کر صرف اسی کے ہی ہو رہتے ہیں ان کے اعمال ضائع نہیں ہوتے بلکہ شیریں پھل انہیں ملتا ہے اور عاجزانہ اور عاشقانہ اعمال کے بہترین نتائج ان کے لئے مقدر کئے جاتے ہیں۔سترھویں غرض بیت اللہ کے قیام کی یہ بتائی کہ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِن بیت اللہ کی تعمیر کی ایک غرض یہ ہے