انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 10 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 10

تفسیر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة الفاتحة اختیار کر گیا۔میٹھے پھل دینے والا آم کا درخت یا وٹامن (Vitamin) سے بھرا ہوا کھٹے آم کا درخت (اس کے اپنے فائدے ہیں) اپنی جگہ پر احسان پر احسان کر رہا ہے ہر چیز انسان پر یا تو بلا واسطه احسان کر رہی ہے یا بالواسطہ احسان کر رہی ہے مثلاً لوسن یا برسیم گھوڑے پر احسان کر رہا ہے کیونکہ یہ گھوڑے کی بڑی اچھی خوراک ہے اور جس وقت گھوڑا مضبوط ہو جاتا ہے تو پھر وہ انسان پر احسان کر رہا ہے کہ وہ اس کی سواری کے کام آتا ہے اور اس کی زینت بنتا ہے یہ ساری احسان کی ہی شکل ہے جو اس کے سامنے آئی لیکن حقیقتا نہ گھوڑے میں احسان کی طاقت ہے نہ لوسن یا برسیم میں احسان کی طاقت ہے بلکہ وہ خدا تعالیٰ کی کسی صفت کا جلوہ ہے جو ان کے اندر ہمیں نظر آتا ہے اگر اللہ تعالیٰ یہ نہ چاہتا کہ کوئی ایسا چارہ ہو جو گھوڑے کو صحت مند اور خوبصورت بنائے تو کوئی چارہ دنیا میں ایسا پیدا نہ ہوتا۔اگر اللہ یہی چاہتا ہے کہ گھوڑے کو لاغر ہی رکھا جائے اور اسے بدصورت ہی بنایا جائے اور اس میں کوئی اور فائدہ اس کے مدنظر ہوتا یعنی فائدہ تو ہوتا لیکن وہ کسی اور رنگ میں ہوتا اس شکل میں نہ ہوتا تو اس رنگ کا احسان ہمیں نہ گھوڑے میں نظر آتا نہ گھوڑے کے چارہ میں کوئی ایسا احسان نظر آتا جو گھوڑے پر ہو رہا ہے غرض ہر چیز میں اور جہاں بھی اللہ تعالیٰ کا حسن نظر آتا ہے وہاں اللہ تعالیٰ کے احسان کے جلوے بھی ہمیں نظر آتے ہیں اور وہ جلوے اللہ کے ہیں۔ان چیزوں کے جلوے نہیں ہیں۔پس چونکہ حسن کا منبع اور سرچشمہ اور حقیقی مالک اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور چونکہ احسان کا حقیقی سرچشمہ اور احسان کی صفات کا حقیقی حقدار اور اپنے اندر ان صفات کو جمع کرنے والا اللہ تعالی ہی کا وجود ہے اس لئے ہم یہ کہنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ سب جگہ جہاں حسن نظر آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حسن ہے جو ہمیں نظر آتا ہے اور ہر جگہ جہاں ہمیں احسان کے جلوے نظر آتے ہیں وہاں اللہ تعالیٰ کی احسانی صفات کے ہی جلوے ہیں اور کوئی چیز نہیں۔جب ہم اس حقیقت کو سمجھتے ہیں تو بے اختیار نہ صرف ہماری زبان سے بلکہ ہمارے وجود کے ذرہ ذرہ سے یہ نکلتا ہے الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ۔الْحَمْدُ لِلَّهِ - اَلْحَمْدُ لِلهِ خطبات ناصر جلد دوم صفحه ۱۰۱۰ تا ۱۰۱۲) زندہ خدا کی زندہ طاقتوں کا مشاہدہ اس پاک وجود کی صفات کے جلووں کے ذریعہ سے ہوتا ہے جو صفات باری انسان سے تعلق رکھتی ہیں ان کا کامل علم اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ہمیں دیا ہے۔ان