انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 6 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 6

تغییر حضرت خلیفہ المسح الثالث سورة الفاتحة۔کیونکہ ایک مقصد کے پیش نظر تمہیں پیدا کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم اپنی استعداد کے مطابق صفات باری کے مظہر بنو اور جو شخص اپنی استعداد کے مطابق صفات باری کا مظہر بن جاتا ہے وہ منبع مسرت اور خوشیوں کے سرچشمہ سے پرسکون اور خوشحال زندگی حاصل کرتا ہے جس پر کبھی فنا نہیں آتی ہے۔اس لئے تم اللہ کی سزا سے ڈرو کیونکہ اللہ تعالی کی گرفت کے یہ معنے ہوں گے کہ جو مقصد تم سے وابستہ کیا گیا تھا اس میں تم ناکام ہوئے اور جو خوشیاں تمہارے لئے مقدر کی گئی تھیں ان سے تم محروم ہوئے اور خدا تعالیٰ سے دوری کے نتیجہ میں جو عذاب مقدر کیا گیا تھا اس کے تم حق دار ٹھہرے۔خود ہی نہیں بلکہ جو سزا سے نہیں ڈرتے اور اپنے رب کو نہیں پہچانتے ان کو بھی معاف کریں اور ایسے سامان پیدا کریں کہ ان کی توجہ محبت اور پیار کے ساتھ ان کے رب کی طرف پھیری جا سکے اور خودسزا دینے کی طرف متوجہ نہ ہوں اور نہ خدا سے یہ کہیں کہ جلد انہیں سزا دے بلکہ کوشش یہ کریں کہ ایسے لوگ بلکہ ساری دنیا ہی اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ جائے۔مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو تم اچھی طرح سمجھا دو کہ ہمارا جو یہ مطالبہ ہے کہ ہماری ہدایت کے مطابق ہمارے ارشادات کی روشنی میں مناسب حال نیک اعمال بجالایا کرو فلنفیسہ اس میں تمہارا فائدہ ہے کیونکہ اس کے نتیجہ میں تم اس مقصد کو حاصل کر سکتے ہو جو تمہاری زندگی کا مقصد ہے۔تو دوسری بات قرآن کریم کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتی ہے کہ جس مقصد کے لئے کائنات اور موجودات کی پیدائش ہوئی ہے اس کا تعلق انسان سے ہے اور اس کا یہ تعلق انسان سے ہے کہ وہ اپنی قوتوں اور استعدادوں کے دائرہ کے اندر مظہر صفات باری بن سکے اور اللہ تعالیٰ نے ایسی ہدایتوں کے سامان پیدا کئے ہیں کہ جو شخص اپنی زندگی کے مقصد کے حصول کی کوشش کرے وہ اس میں کامیاب بھی ہو جائے۔اسی لئے جو بنی نوع انسان کے مختلف ادوار ہیں اپنے اپنے دائرہ میں جو اس وقت کے انسان کو اس کے کمال تک پہنچانے کے لئے ضرورت تھی اس کے مطابق خدا تعالیٰ نے اس زمانہ کے نبی اُس قوم کے نبی کو ہدایت دے دی اور اس آیت استخلاف میں جو ابھی میں نے پڑھی اس میں جو کہا گیا ہے کہ میں اپنا ایک خلیفہ بنانا چاہتا ہوں اس سے ہمیں یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ اگر چہ عام طور پر اس کا ئنات کو پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی غرض یہ ہے کہ ایک ایسی نوع پیدا ہو کہ جو مظہر صفات باری بن سکے۔لیکن اصل غرض یہ ہے کہ ایک ایسا وجود پیدا ہو جائے کہ جو اللہ کا مظہر اتم ہو یعنی تمام صفات