انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 111
تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث !!! سورة البقرة پر ایمان لائے لیکن در حقیقت وہ ایمان نہیں لاتے۔ان کا یہ دعویٰ ایمان سراسر جھوٹا ہوتا ہے۔پہلے دو گروہوں کا ذکر نسبتا مختصر الفاظ میں فرمایا کیونکہ اس متن اور مضمون میں ان دو گروہوں کے بارے میں زیادہ کہنے کی ضرورت اس لئے بھی نہیں تھی کہ ان دونوں گروہوں کی خصوصیات اور کیفیات ظاہر و باہر ہوتی ہیں مگر جس گروہ کا ذکر وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ کے الفاظ سے شروع ہوتا ہے اس کے متعلق نسبتاً زیادہ باتیں بیان کرنے کی ضرورت تھی کیونکہ یہ گروہ مار آستین بن کر اندر ہی اندر جماعت کے اجتماعی جسم کو ڈستا رہتا ہے۔منکرینِ اسلام ظاہری طور پر باہر سے علی الاعلان حملہ آور ہوتا ہے اور مومن بندے اپنے اپنے اخلاص کے مطابق اللہ تعالیٰ پر توکل رکھتے ہوئے اس کے سامنے سینہ سپر رہتے ہیں وہ ہر وقت چوکس اور بیدار رہ کر اس کے شب خون سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ ایک مومن جس طرح دن کو بیدار اور باخبر رہتا ہے اسی طرح وہ شب بیدا ر بھی ہوتا ہے کیونکہ جولوگ رات کو سو جاتے ہیں دشمن ان پر تو شب خون مارتا اور بے خبری میں ان کو شدید نقصان پہنچاتا ہے لیکن وہ جو دن کو بھی ہوشیار ہو اور جو راتیں بھی خدا تعالیٰ کی حمد اور اس کی ثناء کرتے ہوئے گزارتا ہو شیطان اس پر شب خون مارنے کی جرات نہیں کر سکتا۔اس لئے منکرین اسلام کی بعض بنیادی باتوں کے اظہار پر اکتفا فرماتے ہوئے یہ سبق دیا کہ منکرین کی بیماریوں کی تشخیص کو میں نے آسان کر دیا ہے۔اس لئے میری ان ہدایتوں کی روشنی میں اپنی دلی ہمدردی اور غم خواری سے ان کے علاج میں کوشاں رہنا تمہارا فرض ہے لیکن یہ جو تیسرا گروہ ہے یہ ایک مومن کے لباس میں مگر ایک فتنہ گر کی حیثیت میں امت مسلمہ میں داخل ہوتا ہے اور اندر ہی اندر مفسدانہ سرگرمیوں میں مصروف رہتا ہے اس لئے اس بات کی زیادہ ضرورت تھی کہ اللہ تعالیٰ اس گروہ کی برائیوں اور بد خصلتوں کے متعلق زیادہ تفصیل سے بیان فرمائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے جو با تیں اس گروہ کے متعلق ان چند آیات میں بیان فرمائی ہیں وہ بنیادی حیثیت کی حامل ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ اور مومنوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔مجھے پہلے بھی کئی بار یہ خیال آیا ہے ابھی جب میں یہاں آرہا تھا تو مجھے پھر یہ خیال آیا کہ ہمارے رب نے کسی پیار اور کس اعتماد کے ساتھ ہمارا ذکر فرمایا ہے۔فرماتا ہے کہ جس طرح یہ لوگ مجھے دھوکا نہیں دے سکتے کیونکہ میں علام الغیوب ہوں، میرے علم نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے، مجھ سے کوئی چیز چھپی ہوئی نہیں، مجھ پر کبھی غفلت طاری نہیں ہوتی غرض اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی صفات کی مالک ہے کہ اسے کوئی اور