انوار القراٰن (جلد ۱)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 110 of 587

انوار القراٰن (جلد ۱) — Page 110

تفسیر حضرت خلیفة المسیح الثالث 11+ سورة البقرة سے ان کی آنکھوں پر کوئی غلاف نہیں تھا۔یہ تو انہوں نے خودا پنی آنکھوں پر چڑھا لیا ہے۔ان کی اس حالت گھوڑے یا گدھے کی مانند ہے جس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ چلتے وقت کسی چیز کے خوف سے ڈر نہ جائے۔پس انہوں نے بھی اس خوف سے کہ کہیں روحانیت کی کوئی جھلک ان کی آنکھوں میں نہ پڑ جائے ( جود نیوی عارضی مسرتوں سے ان کو دور لے جائے ) اپنی آنکھوں پر غلاف چڑھالئے ہیں جس کی وجہ سے یہ حسن و احسان کے روحانی جلوے دیکھنے سے قاصر ہیں۔بہر حال سورۃ بقرہ کی ان ابتدائی سترہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین کا ذکر کر کے ان کی جسمانی کیفیات اور ان کے روحانی امراض کی طرف متوجہ کرتے ہوئے سامان عبرت مہیا فرمایا۔پھر ان کو جھنجھوڑ کر یہ انتباہ فرمایا کہ اگر تمہاری حالت یہی رہی تو تم حق کو ہرگز قبول نہیں کر سکتے۔تم قبول حق کی توفیق صرف اسی صورت میں پاسکتے ہو کہ تمہاری روحانی اور اخلاقی کیفیت یہ نہ ہو کہ ہمارے اس عظیم رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ڈرانا یا نہ ڈرانا تمہارے لئے برابر ہو۔چاہیے کہ اس کا ڈرانا تمہارے دلوں پر اثر انداز ہو۔جب تک تمہارے اندر یہ تبدیلی رونما نہیں ہوتی جب تک وہ مہریں جو تم نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنے قلوب اور اپنے کانوں پر لگالی ہیں ان کو تم توڑ نہ دو اور ہم نے آسمانی مؤثرات کو قبول کر لینے کیلئے تمہارے دل میں جو کھڑکیاں بنا رکھی ہیں۔ان کو تم کھول نہ دو جب تک تم ان غلافوں اور ان پردوں کو جنہیں تم نے اپنی آنکھوں پر ڈال لیا ہے جو اللہ تعالی کے نور سے اپنے آپ کو چھپانے کے لئے اور اللہ تعالیٰ کے نور کے جلووں سے اپنے آپ کو بچانے کیلئے خود ہی تم نے اپنی آنکھوں پر پٹی کے طور پر باندھ رکھے ہیں تم ان کو ہٹا نہ دو، اس وقت تک تمہاری یہ حالت مبدل بہ اسلام نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کی توجہ کو تم حاصل نہیں کر سکتے۔تم جب تک اپنی یہ حالت نہیں بدلتے خدا تعالیٰ سے دُور و مہجور رہو گے۔دنیا کی جھوٹی اور عارضی لذت سے تم لطف اندوز تو ہو سکتے ہو لیکن اگر تمہاری یہی حالت رہے تو تم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے پیار کی حقیقی اور سچی لذت اور ابدی سرور کو کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔پس جب تک منکرین دین کی حالت نہیں بدلتی۔اس وقت تک قرآن کریم کی تعلیم یا حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- ایک اور گروہ بھی دنیا میں پیدا ہوگا اور یہ ان لوگوں کا گروہ ہے جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت