قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 83
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) کے اُس کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی کوششیں کرتے ہیں اور تمہیں صحیح طور پر نماز بھی ادا نہیں کرنے دیتے وہ تمہارے کھلے کھلے دشمن ہیں۔اس ضمن میں ایک مثال تحریر ہے کہ سن 5 ھجری بمطابق فروری مارچ 627ء کفار کا لشکر جس میں دس ہزار سے لے کر پندرہ ہزار تک عسکری تھے مدینہ کے مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کے لیے مدینہ کے باہر پہنچ گیا۔مسلمانوں نے اپنے دفاع کے لیے ایک خندق کھودی تا کہ کفار اُسے عبور نہ کر سکیں۔اور مدینہ اُن کے اچانک حملہ سے محفوظ رہے۔مسلمانوں نے بھی اپنے بچاؤ اور حفاظت کے لیے حسب الاستطاعت تیاری کی۔اس دوران ایک موقعہ ایسا آیا کہ مسلمان عصر کی نماز وقت پر ادا نہ کر سکے۔یہاں تک کہ آنحضرت صلی یہ تم نے نماز عصر سورج غروب ہونے کے بعد ادا کی اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔حضرت علی کا بیان ہے کہ غزوہ خندق کے روز نبی کریم صلی ای ایم نے فرما یا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دیا جنہوں نے سورج غروب ہو جانے تک ہمیں نماز عصر نہ ادا کرنے دی۔( بحوالہ صحیح بخاری۔ابواب المغازی۔باب غزوۃ الخندق) 83