قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 25
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) ( سورة البقرة،سورۃ نمبر 2 آیت نمبر 105) ترجمہ: ” راعنا “ نہ کہا کرو بلکہ یہ کہا کرو کہ ہم پر نظر فرما۔تفاسیر میں آتا ہے کہ یہود رَاعِنَا كورًا عِيْنَا ( ہمارے چرواہے) پڑھا کرتے تھے۔حضرت ام المؤمنین رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ آنحضرت صالی یتیم کے پاس چند یہود آئے اور انہوں نے (السلام علیکم ) کہنے کی بجائے ، حضور صلی ہے یہ تم کو مخاطب کرتے ہوئے اور لفظ ”سلام کو بدلتے ہوئے کہا السام عليك (یعنی نعوذ باللہ بد دعادی) (بحوالہ صحیح مسلم ، کتاب السلام ، باب النھی عن ابتداء، اخل الكتاب بالسلام ) ان الفاظ کی تحریف مخالفین اسلام آنحضرت ساله ای یتیم کی حیات میں کر رہے تھے۔اگر خدائی وعدہ، اور حضرت ابو بکر اور حضرت عثمان کی طرف سے بر وقت حفاظت قرآن کی کاروائی نہ کی جاتی تو نہ معلوم قرآن مجید کے خلاف کیا کیا سازشیں کرتے۔تو رایت میں تحریف کی مثال یهود و نصاری نے تو رایت ( کتاب مقدس پرانا اور نیا عہد نامہ ) میں کس طرح تحریف کی اُس کی صرف ایک مثال درج ذیل ہے۔25 25