قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 18
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) جو حضرت عمر کی صاحبزادی اور سیدنا محمد علیہ اسلام کی زوجہ تھیں کے پاس امانت رکھوا دیا گیا اور جب حضرت عثمان کے عہد خلافت میں مملکت اسلامیہ کی حدود نجمی اور غیر عربی علاقوں تک وسیع ہوگئی اور غیر عربی لوگ اور دور دراز کے عرب قبائل کے لوگ اسلام میں شامل ہو گئے۔آرمینیہ اور آذربائیجان بھی اسلام میں داخل ہو گیا تو یہ مناسب اور ضروری سمجھا گیا کہ دور دراز کے علاقوں میں قرآن مجید کو صحیح تلفظ اور ترتیب سے پڑھنے کے لیے اصل مستند قرآن مجید کی نقلیں کروا کر مختلف ممالک میں بھجوا دی جائیں چنانچہ حضرت عثمان نے اصل نسخہ قرآن مجید حضرت حفصہ سے منگوایا اور حضرت زید بن ثابت ،حضرت عبداللہ بن زبیر، حضرت سعید بن عاص ،حضرت عبد الرحمن بن الحارث کو حکم دیا کہ اس کی نقلیں کریں، چنانچہ انہوں نے اس کی نقلیں تیار کیں اور یہ سب کچھ مدینہ منورہ میں کبار صحابہ کی موجودگی میں ہوا۔اصل نسخہ حضرت عثمان نے حضرت حفصہ کو واپس بھجوا دیا۔رَدَّ عُثْمَانُ الصُّعُفَ إِلى حَفصة (بخارى كتاب التفسیر )۔معترض کی ساری توجہ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان کے عہد میں قرآن مجید کو یکجا کرنے اور اس کی نقلیں کروانے کی طرف رہی اور خود کو بھی اور دوسروں کو بھی اس مغالطہ میں ڈالنے کی کوشش کی کہ خدا نخواستہ ان دونوں خلفاء نے اسے تحریر 18