قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 8
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) یعنی حضرت ابن عباس جو آنحضرت ملا تھا کہ یتیم کے چچازاد بھائی تھے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عثمان خلیفہ ثالث ( جو آنحضرت کے زمانہ میں کاتب وحی رہ چکے تھے ) فرمایا کرتے تھے کہ آنحضرت سال پیام پر جب کچھ آیات اکٹھی نازل ہوتی تھیں تو آپ مسئلہ یہ تم اپنے کا تبان وحی میں سے کسی کو بلا کر ارشاد فرماتے تھے کہ ان آیات کو فلاں سورۃ میں فلاں جگہ لکھو اور اگر ایک ہی آیت اترتی تھی تو پھر اسی طرح کسی کا تب وحی کو بلا کر اور جگہ بتا کر اسے تحریر کروا دیتے تھے۔جن صحابہ سے کتابت وحی کا کام لیا جاتا تھا اُن کے نام اور حالات تفصیل و تعین کے ساتھ تاریخ میں محفوظ ہیں۔اُن میں سے زیادہ معروف صحابہ یہ تھے۔حضرت ابوبکر حضرت عمررؓ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت زبیر بن العوام ،حضرت شرجیل رض بن حسنہ ، حضرت عبد اللہ بن رواحہ ، حضرت ابی بن کعب اور حضرت زید بن ثابت۔(فتح الباری جلد 9 صفحہ 19 و، زرقانی جلد 4 صفحہ 311 تا326) اس فہرست سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی ا یہ تم کو ابتدائے اسلام سے ہی ایک معتبر جماعت قرآنی وحی کے قلمبند کرنے کے لئے میسر تھی اور اس طرح قرآن شریف نہ صرف ساتھ ساتھ تحریر میں آتا گیا تھا بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس کی موجودہ ترتیب بھی جو 8