قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 119
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) تو مسلمانوں پر ہی فرض ہیں۔لہذا مسلمانوں کے علاوہ دوسرے شہریوں سے جو ٹیکس لیا جاتا تھا اُس کا نام جزیہ رکھا جاتا تھا۔اس سلسلہ میں تاریخ اسلام سے ایک واقعہ تحریر کرنا مناسب ہوگا۔حضرت عمر بن الخطاب کے زمانے میں اسلامی فوجیں حمص “ (شام) سے پیچھے ہٹ آئیں تو حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے وہاں کے یہودیوں اور عیسائیوں کو بلا کر کئی لاکھ کی رقم جزیہ جو اُن سے وصول کیا گیا تھا اُنہیں واپس کر دیا۔اور یہ کہا اب چونکہ ہم تمھاری حفاظت نہیں کر سکتے اسلئے یہ جزیہ کی رقم بھی نہیں رکھ سکتے اور تمھیں واپس کر رہے ہیں فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى كُلِّ وَالٍ مَنْ خَلَّفَهُ فِي الْمُدُنِ الَّتِي صَاحَ أَهْلَهَا يَأْمُرُهُمْ أَنْ يردوا عَلَيْهِم مَا جبى مِنْهُمْ مِنَ الْجِزْيَةِ وَالْخَرَاجِ، وَكَتَبَ إِلَيْهِم أَنْ يَقُولُوا لَهُمْ: إِنَّمَا رَدَدْنَا عَلَيْكُمْ أَمْوَالَكُمْ، لأَنَّهُ قَد بَلَغَنَا مَا جُمِعَ لَنَا مِنَ الجموع، وَأَنَّكُمُ اشْتَرَطْتُمْ عَلَيْنَا أَنْ تَمَنَعَكُمْ، وَإِنَّا لَا نَقْدِرُ عَلَى ذَلِكَ، وَقَد رَدَدْنَا عَلَيْكُمْ مَا أَخَذْنَا مِنْكُمْ وَنَحْنُ لَكُمْ عَلَى 119