قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے

by Other Authors

Page 118 of 145

قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 118

قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات ) یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ہر حکومت اپنے ملکی انتظامات چلانے کے لئے اپنے شہریوں سے مختلف قسم کے ٹیکس وصول کرتی ہے۔اسلامی حکومت معاشرے کے حاجت مند طبقے کی حاجت روائی اور دوسرے انتظامات کے لئے مسلمانوں سے زکوۃ اور صدقات و دیگر چند جات وصول کرتی تھی۔قرآن مجید میں ذکر ہے کہ مسلمان و يُؤْتُوا الزَّكوة ( سورة البينة ، سورة نمبر 98 آیت نمبر 6) کہ وہ زکوۃ دیں پھر اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی نام کو اور آپ کی وساطت سے ہر خلیفہ کو یہ حکم دیا خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةٌ تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيْهِمْ بِهَا وَ صَلِّ عَلَيْهِمْ إِنَّ صَلوتَكَ سَكَنُ لَهُمْ وَ اللهُ سَمِيْعُ عَلِيمٌ ۱۰۳ (سورۃ التوبہ،سورۃ نمبر 9 آیت نمبر 103) ترجمہ: تو ان کے مالوں میں سے صدقہ قبول کر لیا کر، اس ذریعہ سے تو انہیں پاک کرے گا نیز اُن کا تزکیہ کرے گا۔اور اُن کے لئے دعا کیا کر یقیناً تیری دعا اُن کے لئے سکینت کا موجب ہوگی اور اللہ بہت سنے والا ( اور ) دائی علم رکھنے والا ہے۔یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ یہود و نصاری سے تو زکوۃ اور صدقات نہیں لئے جا سکتے وہ 118