قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 112
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) کرتا تھا اور سادہ لوح مسلمانوں کو دین اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کرتا تھا۔انہیں اعتراضات میں سے ایک یہ تھا کہ حضرت محمدمالی ایم کے پاس جو صدقات جمع ہوتے ہیں وہ آپ سال پیام مستحقین کو نہیں دیتے بلکہ اس کی تقسیم میں اپنے اقرباء اور احباء کو زیادہ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس الزام کی تردید کی اور حضور ایل ایام کو ان الزمات کی طرف التفات نہ کرنے کی تاکید فرمائی۔نیز منافقین کی یہ کیفیت بھی بتائی کہ اگر انکوان صدقات میں سے کچھ دیا جاتا ہے تو وہ راضی اور خوش ہو جاتے ہیں اور جب اُنکی مرضی اور اُمید کے مطابق انکی امداد نہیں ہوتی تو وہ ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے سید نا حضرت محمد ال ایام کے خلفاء کو یہ تاکید کی کہ اس قسم کے الزامات منافقین کی طرف سے اُن پر اور مومنوں کی جماعت پر آئندہ بھی ہوتے چلے جائیں گے۔لیکن تم نے عدل وانصاف کے ساتھ اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق صدقات کو مستحقین میں تقسیم کرنا ہے اور الزام لگانے والوں کے الزامات کی قطعاً پرواہ نہیں کرنی یہ ایک اصولی تعلیم تھی جو اللہ تعالیٰ نے حضور صلی ا یہ تم اور مسلمانوں کو دی تھی۔112