قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 107
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) بنواسرائیل کا ہمیشہ اسی پر عمل رہا ہے اور یہودی قضیئے ہمیشہ اسی اصل کے ماتحت تصفیہ پاتے رہے ہیں۔چنانچہ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو : اور انہوں نے (یعنی بنو اسرائیل نے ) مدیا نیوں سے لڑائی کی جیسا خداوند نے موسیٰ کو فرمایا تھا اور سارے مردوں کو قتل کیا۔اور انہوں نے ان مقتولوں کے سوا آدمی اور رقم اورصور اور حور اور ربع کو جو مدیان کے پانچ بادشاہ تھے جان سے مارا اور باعور کے بیٹے بلعام کو بھی تلوار سے قتل کیا اور بنی اسرائیل نے مدیان کی عورتوں اور ان کے بچوں کو اسیر کیا اور انکے مواشی اور بھیڑ بکری اور مال و اسباب سب لوٹ لیا۔(گنتی باب 31 آیت 12-7) حضرت مسیح ناصری کو ( جو وہ بھی بنواسرائیل میں سے ہی تھے ) گوا اپنی زندگی میں حکومت نصیب نہیں ہوئی اور نہ جنگ و جدال کے موقعے پیش آئے جن میں اُنکا طریق عمل ظاہر ہوسکتا۔مگر ان کے بعض فقروں سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شریر اور بد باطن دشمنوں کے متعلق ان کے کیا خیالات تھے۔چنانچہ اپنے دشمنوں کو مخاطب کر کے حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ : اے سانپوں ! سانپوں کے بچوں ! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے؟ 107