قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے — Page 106
قرآن مجید کا محافظ اللہ تعالیٰ ہے ( قرآن مجید کی 26 آیات پر اعتراضات کے جوابات) دیں) ان الفاظ میں ان اموال غنیمت کے ملنے کا ذکر ہے جو خیبر میں لڑنے والی جنگ (7 مئی 628) میں مسلمانوں کو ملے تھے۔اورلوگوں کے ہاتھ ان سے روک لے(كَفَّ ايدي النَّاسِ۔۔۔) سے مراد حدیبیہ کے موقع پر کفار مکہ کو تم پر حملہ کرنے سے باز رکھا۔مال غنیمت پر قبضہ کرنے اور اسے استعمال کرنے کے بارے میں یہود ونصاری کی دینی کتاب تو رات میں بھی مذکور ہے کہ: اور جب تو کسی شہر کے پاس اُس سے لڑنے کے لئے آپہنچے تو پہلے اس سے صلح کا پیغام کر۔تب یوں ہوگا کہ اگر وہ تجھے جواب دے کہ صلح منظور اور دروازہ تیرے لئے کھول دے تو ساری خلق جو اس شہر میں پائی جاوے تیری خراج گزار ہوگی اور تیری خدمت کرے گی اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کرے بلکہ تجھ سے جنگ کرے تو اس کا محاصرہ کر اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دیوے تو وہاں کے ہر ایک مرد کو تلوار کی دھار سے قتل کر مگر عورتوں اور لڑکوں اور مواشی کو اور جو کچھ اس شہر میں ہواس کا سارالوٹ اپنے لئے۔(استثناء باب 20 آیت 10 تا 15) یہودی شریعت کا یہ حکم محض ایک کاغذی حکم نہیں تھا جس پر کبھی عمل نہ کیا گیا ہو بلکہ 106