قندیلیں

by Other Authors

Page 97 of 194

قندیلیں — Page 97

9< اور وہ بھی کچھ اس قسم کی پکی ہوئی کہ نہ پکنے کے برا بر ہوتی تھی۔وجہ یہ تھی کہ مخالفت زوروں پر تھی اور کوئی شخص ان کے نزدیک نہیں پھینکتا تھا۔بیت الذکر کی رکھوالی آپ کی اہلیہ محترمہ کیا کرتی تھیں۔جھاڑو لگا ئیں۔اپنے ہاتھ سے غسل خانے صاف کرتیں۔خوش قسمتی سے اس کے صحن میں شہتوت کا ایک درخت تھا۔اس کے پتے جمع کر لیتیں اور ان کا بچہ شیشم کے سوکھے پتے باہر سے لے آتا۔یہ گھر میں استعمال ہونے سوال ایندین تھا کیو نکہ تنگدستی کے باعث لکڑی خرید ہی نہیں سکتے تھے۔ان پتوں پر پکی ہوئی وال یا روٹی کیسے پک سکتی تھی۔حضرت مولوی صاحب کے ہاں دستور تھا کہ پہلے دال کو بھون لیا جاتا پھر اس کو چکی میں پیس لیتے اور پھر ہانڈی میں ڈال کر پانی ڈال کو بہت سے پتے جلا کر جوش دیتے۔اور نمک مرچ ڈال کر اس میں پسی ہوئی دال کا سفوف ڈال کر بلا دیتے۔پس یہ اس گھر میں پکنے والی دال تھی۔اور باہر سے میری آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔شہتوت کی نازک کو نپلیں اور بیری کے تازہ نازک بیر پکا کر کھاتے تھے۔یہ اس جلیل القدر بزرگ ہستی کے گھر میں پکنے والی سبزی تھی۔اس حال میں بھی شاہنشاہ ہے۔بعض دفعہ با ہر دعوت الی اللہ کے لئے جاتے اور فاقہ کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھد کو یہ فریضہ ادا کرتے۔آپ نے اپنی تمام عمر میں اپنی جائداد کتب خانہ تیار کیا اور سب سے بڑی دولت جو آپ کے ذریعہ جماعت کے حصہ آئی وہ جہلم شہر کی بیت الذکر ہے الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۸) نورانی جهو : ایک دفعہ مردان کا ایک شخص قادیان آیا۔یہ شخص حضرت مسیح موعود کا سخت ترین دشمن تھا۔اس نے قادیان اگر رہائش کے لئے مکان بھی احمدیہ محلہ سے